دعا ہے دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے عروج اور نشاۃِ ثانیہ کا ذریعہ بنے: مولانا فضل الرحمان
Web Desk
9 August 2026
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کو اسلامی دنیا کے اتحاد اور اجتماعی سلامتی کی جانب ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ امت مسلمہ کے عروج اور نشاۃِ ثانیہ کا ذریعہ بنے گا۔ ملتان میں ممتاز سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کی مشترکہ دفاعی قوت ہمیشہ سے جے یو آئی کے منشور اور نظریے کا بنیادی حصہ رہی ہے، اور اس سہ فریقہ معاہدے میں دیگر اسلامی ممالک کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب مسلم امہ کی قیادت کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اجتماعی سلامتی کا ایک مضبوط ستون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفاعی معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امت مسلمہ کے مفادات مشترک ہیں اور یہ اسلامی مقدسات کے وقار اور تحفظ کے عزم کی بھی کھلی علامت ہے۔ پاکستانی عوام حرمین شریفین کے دفاع کو عظیم اعزاز اور مقدس مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں جبکہ سعودی عرب کو حرمین شریفین کی نگہبانی کے باعث تمام مسلمانوں کے دلوں میں خاص مقام حاصل ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی کی جانب سے تینوں ممالک کے سربراہان کو مبارکباد دی اور اسے ملت اسلامیہ کی مضبوطی کا اہم سنگِ میل قرار دیا۔
متعلقہ عنوانات
ایمرجنسی قابل مذمت، فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے: بیرسٹر گوہر
11 October 2026
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، صدرِ مملکت نے منظوری دے دی
11 October 2026
آئی ایم ایف معاہدہ اور معاشی استحکام بڑی کامیابی؛ سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا کوئی جواز نہیں: وزیراعظم شہباز شریف
11 October 2026
گوجر خان: کراچی سے پشاور جانے والی خیبر میل کو حادثہ
11 October 2026
سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے اسلحہ سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی
11 October 2026
وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی
11 October 2026
پاکستان کی ریاض پر حوثی حملے کی مذمت، سعودی خودمختاری کے تحفظ کا عزم
11 October 2026
فلوریڈا میں سمندری طوفان سے تباہی، 2 افراد ہلاک، 8 لاکھ صارفین بجلی سے محروم
11 October 2026