LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر ٹرمپ نے امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا آبنائے ہرمز میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے لیے اقوام متحدہ کی مدد کی اپیل مذاکراتی ٹیم سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق چل رہی ہے: ایران ایران کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے گئے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف عمران خان کی بہنیں آج بھی ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں ایران-امریکا مذاکرات: ایران کا جواب نہیں آیا، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے

برطانیہ، روس سے مبینہ تعلقات پر معروف پاکستانی ٹائیکون کو پابندیوں کا سامنا

Web Desk

19 December 2025

برطانیہ نے روس کے توانائی شعبے سے مبینہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستانی نژاد معروف تاجر مرتضیٰ لاکھانی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق برطانوی حکومت نے روس کے خلاف عائد پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے مرتضیٰ لاکھانی اور ان سے منسلک متعدد کاروباری اداروں کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرتضیٰ لاکھانی پر روسی توانائی کے شعبے میں مبینہ کردار اور کاروباری روابط کے باعث پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ لاکھانی گزشتہ طویل عرصے سے لندن کو اپنا کاروباری مرکز بنائے ہوئے ہیں اور وہ بین الاقوامی سطح پر شپنگ اور توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں۔

برطانوی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں مرکنٹائل اینڈ میری ٹائم گروپ بھی شامل ہے، جس کے علاوہ لاکھانی سے وابستہ دیگر کئی کاروباری اداروں کو بھی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت متعلقہ افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں جبکہ برطانیہ میں کاروباری سرگرمیوں اور مالی لین دین پر بھی سخت پابندیاں عائد ہوں گی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ روس کے خلاف اپنی پابندیوں کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کر رہا ہے اور ان افراد و اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن پر روسی معیشت، بالخصوص توانائی کے شعبے، کو سہارا دینے کا شبہ ہے۔

برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیوں کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا اور یوکرین جنگ کے تناظر میں اس کے مالی وسائل کو محدود کرنا ہے۔