LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی میڈیکیئر فنڈز میں 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے فراڈ میں مطلوب تین ملزمان کے پاکستان میں ہونے کا انکشاف ‘ہر شہری سے قربانی کی توقع کی جائے گی’، برطانوی فوج کے سربراہ نے جنگ کے خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کر دیا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قابضین کا فلسطینیوں اور امریکی صحافی پر حملہ سکیورٹی فورسز کا چاغی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک سعودیہ کو حوثیوں کیخلاف اسرائیلی مدد کی پیشکش قبول کرنی چاہئے: صدر ٹرمپ کا مشورہ پاکستان کا اسرائیلی قبضہ ختم کرنے، آزاد فلسطین کیلئے ناقابلِ تنسیخ مدت مقرر کرنے کا مطالبہ آسٹریلیا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، دو افراد ہلاک یورپی یونین کے سیٹلائٹ منصوبے کے منظوری کیلئے شراکت داروں کیساتھ مذاکرات جی سیون کا 44 ممالک میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کیلئے 2.5 بلین ڈالر مختص کرنے کا اعلان چین کا مسئلہ فلسطین کے دو ریستی حل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان سیکا اجلاس: اسرائیلی صدر کے خطاب کے دوران 10 ممالک کے مندوبین کا واک آؤٹ امریکی ریاست اوریگون کے سکول میں فائرنگ، 4 افراد ہلاک، حملہ آور بھی مارا گیا آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل کھولنا خطے سے امریکی انخلا سے مشروط ہے: ایرانی فوج ایران کی سعودیہ اور یمن میں اختلافات ختم کرانے کیلئے سفارتی کردار ادا کرنیکی پیشکش قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کا لبنان کی حمایت کا عزم

برطانیہ، روس سے مبینہ تعلقات پر معروف پاکستانی ٹائیکون کو پابندیوں کا سامنا

Web Desk

19 December 2025

برطانیہ نے روس کے توانائی شعبے سے مبینہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستانی نژاد معروف تاجر مرتضیٰ لاکھانی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق برطانوی حکومت نے روس کے خلاف عائد پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے مرتضیٰ لاکھانی اور ان سے منسلک متعدد کاروباری اداروں کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرتضیٰ لاکھانی پر روسی توانائی کے شعبے میں مبینہ کردار اور کاروباری روابط کے باعث پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ لاکھانی گزشتہ طویل عرصے سے لندن کو اپنا کاروباری مرکز بنائے ہوئے ہیں اور وہ بین الاقوامی سطح پر شپنگ اور توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں۔

برطانوی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں مرکنٹائل اینڈ میری ٹائم گروپ بھی شامل ہے، جس کے علاوہ لاکھانی سے وابستہ دیگر کئی کاروباری اداروں کو بھی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت متعلقہ افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں جبکہ برطانیہ میں کاروباری سرگرمیوں اور مالی لین دین پر بھی سخت پابندیاں عائد ہوں گی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ روس کے خلاف اپنی پابندیوں کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کر رہا ہے اور ان افراد و اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن پر روسی معیشت، بالخصوص توانائی کے شعبے، کو سہارا دینے کا شبہ ہے۔

برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیوں کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا اور یوکرین جنگ کے تناظر میں اس کے مالی وسائل کو محدود کرنا ہے۔