LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی اردن میں فوجی اڈے پر کارروائی کے جواب میں ایران پر شدید حملوں کی دھمکی امریکا کو خطے میں محاصرے میں لیا جانا چاہئے: نائب سپیکر ایرانی پارلیمنٹ خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی پالیسی ناکام ہو چکی: انور قرقاش امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ مسترد کردیا اسرائیل اور یونان کے درمیان 3.5 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے سندھ طاس معاہدہ, پاکستان کا عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی آج پانچویں برسی منائی جارہی ہے نیدرلینڈز میں سالانہ ریڈ ہیڈ فیسٹیول، دنیا بھر سے سرخ بالوں والے افراد کی شرکت پٹرول مزید مہنگا، ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 3 پیسے کمی کردی گئی اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب یاشار گولر سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت، پرتپاک استقبال روس چین ویزا فری نظام مستقل کرنے پر تیار، صدر پوتن کا اعلان روس اور بیلاروس کے صدور کی ملاقات، تجارت اور عالمی امور پر گفتگو بات پکی ہوئی نہ منگنی، بلاول بھٹو بھی جعلی خبروں پر بول پڑے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 33 پیسے فی کلو اضافہ

برطانیہ، روس سے مبینہ تعلقات پر معروف پاکستانی ٹائیکون کو پابندیوں کا سامنا

Web Desk

19 December 2025

برطانیہ نے روس کے توانائی شعبے سے مبینہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستانی نژاد معروف تاجر مرتضیٰ لاکھانی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق برطانوی حکومت نے روس کے خلاف عائد پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے مرتضیٰ لاکھانی اور ان سے منسلک متعدد کاروباری اداروں کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرتضیٰ لاکھانی پر روسی توانائی کے شعبے میں مبینہ کردار اور کاروباری روابط کے باعث پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ لاکھانی گزشتہ طویل عرصے سے لندن کو اپنا کاروباری مرکز بنائے ہوئے ہیں اور وہ بین الاقوامی سطح پر شپنگ اور توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں۔

برطانوی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں مرکنٹائل اینڈ میری ٹائم گروپ بھی شامل ہے، جس کے علاوہ لاکھانی سے وابستہ دیگر کئی کاروباری اداروں کو بھی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت متعلقہ افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں جبکہ برطانیہ میں کاروباری سرگرمیوں اور مالی لین دین پر بھی سخت پابندیاں عائد ہوں گی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ روس کے خلاف اپنی پابندیوں کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کر رہا ہے اور ان افراد و اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن پر روسی معیشت، بالخصوص توانائی کے شعبے، کو سہارا دینے کا شبہ ہے۔

برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیوں کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا اور یوکرین جنگ کے تناظر میں اس کے مالی وسائل کو محدود کرنا ہے۔