LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران پر حملے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: امریکی صدر ٹرمپ 10 یورپی ممالک کا یوکرین کی حمایت میں پولینڈ میں مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان نیویارک میں خسرہ کی وباء شدت اختیار کر گئی، 30 سال بعد پہلی موت اسرائیل کی فلسطینیوں کے ساڑھے 9 ہزار گھر تباہ کرنیکی تیاری، مالکان کو نوٹس جاری ڈیجیٹل ذرائع حق خودارادیت کی تحریکوں کو دبانے کیلئے استعمال کئے جا رہے: پاکستان انٹرنیٹ ٹیکنالوجی سے انسانی ترقی کا فرق بڑھنا نہیں چاہئے: چینی وزارت خارجہ امریکی وسط مدتی انتخابات: ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو واضح برتری حاصل عالمی منڈیوں میں اجناس کی قیمتوں میں رواں سال 23 فیصد اضافے کا امکان ہے: عالمی بینک وزیراعظم کی مہمند میں انسداد پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت، دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا عزم اقوام متحدہ میں پاکستان کی پیش کردہ 3 قراردادیں بھاری اکثریت سے منظور ایاز صادق کی ’’فاز‘‘ میزائل کے کامیاب تجربے پر قوم، مسلح افواج، سائنسدانوں کو مبارکباد مشی گن میں ہائی سکول کو بم کی دھمکی، عمارت خالی کروا لی گئی دہشتگردوں کیخلاف کامیاب آپریشنز فورسز کی اعلیٰ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں: حنیف عباسی یورپی یونین کی جنگ بندی کی اپیلوں کا مقصد یوکرین جنگ کو طول دینا ہے، روسی وزیر خارجہ ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید کا اکثریت ملنے پر امریکی صدر کے احتساب کا اعلان

اسرائیل کی فلسطینیوں کے ساڑھے 9 ہزار گھر تباہ کرنیکی تیاری، مالکان کو نوٹس جاری

Web Desk

4 November 2026

اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ اور جبری بے دخلی کی مہم کو تیز کرتے ہوئے ساڑھے 9 ہزار سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر عمارات کو مسمار کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیے ہیں، جس کے تحت متعدد عمارتوں کی تعمیر فوری طور پر روک دی گئی ہے اور کئی کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔

فلسطینی کمیشن کی جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، 2015ء سے 2025ء کے دوران اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے محروم کرنے کی خاطر 9 ہزار 174 باضابطہ نوٹسز جاری کیے گئے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جاریہ سال 2026ء کے دوران مزید 344 مسماری و تعمیری پابندی کے نوٹسز کا اجرا کیا جا چکا ہے۔ اس سلسلے میں سال 2023ء سب سے زیادہ خطرناک رہا، جب صرف ایک سال کے اندر 1 ہزار 333 سے زائد فلسطینی مکانات کو ہدف بنایا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الخلیل (Hebron) کا شہر اس مسماری مہم کا سب سے بڑا نشانہ بنا ہے، جہاں 2015ء سے اب تک 2 ہزار 697 عمارتوں کو سرخ نشانات کی زد پر لایا گیا۔ اس کے علاوہ بیت لحم میں 1 ہزار 310 جبکہ رام اللہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں بھی سینکڑوں مکانات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق ادارے (OCHA) نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی افواج اب تک مقبوضہ علاقوں میں مجموعی طور پر لگ بھگ 12 ہزار فلسطینی عمارتوں اور ڈھانچوں کو مسمار کر چکی ہیں