LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

انتخابی فہرست نے 37 سال سے غائب بیٹے کو خاندان سے ملا دیا

Web Desk

24 November 2025

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 1988 میں غائب ہونے والے وکی چکروورتی اپنے خاندان سے ملنے میں کامیاب ہوگئے۔ وکی چکروورتی کی گمشدگی کے بعد ان کے اہل خانہ نے کئی سال تک انہیں تلاش کیا، مگر کوئی سراغ نہیں ملا۔ لیکن حالیہ انتخابی فہرست کی نظرثانی نے ایک غیر متوقع موڑ لیا، جس سے اس خاندان کی تقدیر بدل گئی۔

وکی کے چھوٹے بھائی پردیپ چکروورتی، جو اس علاقے میں بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کے طور پر کام کر رہے ہیں، نے اپنے موبائل نمبر اور نام کا ذکر ہر فارم پر کیا تھا۔ وکی کے بیٹے نے کولکتہ سے پردیپ سے رابطہ کیا، اور دونوں کے درمیان بات چیت میں ایک دلچسپ بات سامنے آئی۔

پردیپ نے کہا، ’جب وکی کا بیٹا مجھے اپنے خاندان کے بارے میں بتا رہا تھا اور وہ باتیں کر رہا تھا جو صرف ہم جانتے تھے، تب مجھے یقین ہو گیا کہ میں اپنے بھتیجے سے بات کر رہا ہوں۔‘

اس ملاقات کے بعد پردیپ نے اپنے بڑے بھائی وکی سے رابطہ کیا،اور 37 سال بعد دونوں بھائیوں کی آوازیں ایک دوسرے تک پہنچیں۔