LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملتان میں گندم خوردبرد کیس میں پاسکو کے افسران سمیت 6 ملزمان گرفتار حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا خیبر پختونخوا میں ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے: علی محمد خان عمان کے وزیر خارجہ پاکستان کا 2 روزہ سرکاری دورہ کریں گے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت تھی: مصطفیٰ کمال سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بدعنوانی، نیب کراچی نے تحقیقات شروع کردیں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی مدد جاری رکھیں گے، برطانوی وزیراعظم نواز شریف ایون فیلڈ ہاؤس پہنچ گئے، سیاسی سوال کا جواب دینے سے گریز پاکستان روس تعلقات میں نئے باب کا آغاز، روسی وزیر داخلہ پاکستان پہنچ گئے صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج طلب کر لیا راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ غزہ میں مظالم پر دستاویزی فلم کی اسرائیل میں پذیرائی، نیتن یاہو برہم بانی پی ٹی آئی سے کل ملاقات کرنے والوں کے نام جیل حکام کو ارسال سوات میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی سمیت 200 افراد کیخلاف مقدمہ درج کے پی اور بلوچستان کا کوئی موازنہ نہیں، وفاق کے آئینی اقدام کی حمایت کرتے ہیں: سرفراز بگٹی

27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ منظرِ عام پر آگیا

Web Desk

8 November 2025

 وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس میں 48 شقوں میں مختلف ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ بل کے مطابق ملک میں ایک نئی “وفاقی آئینی عدالت” (Federal Constitutional Court) قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو سپریم کورٹ سے علیحدہ ہوگی۔
ترمیمی بل کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد میں ہوگا، جبکہ اس کے چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت 3 سال اور ججز کی ریٹائرمنٹ عمر 68 سال مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے، آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات سننے کا اختیار حاصل ہوگا۔
بل کے تحت آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے اور اس کے اختیارات نئی وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 175 میں بھی ترمیم شامل ہے جس کے تحت سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات محدود ہو جائیں گے۔
آرٹیکل 175-A میں ججز کی تقرری کا نیا طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے جس کے مطابق جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت، دونوں کے چیف جسٹس شامل ہوں گے۔ مزید یہ کہ دونوں عدالتوں کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے، تاہم آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے (آرٹیکل 189 میں ترمیم)۔
بل میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو کی بھی تجویز دی گئی ہے، جس میں دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس ارکان کے طور پر شامل ہوں گے۔
دفاعی امور سے متعلق آرٹیکل 243 میں بڑی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ اس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا اضافی عہدہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ساتھ ہی “فیلڈ مارشل” کو قومی ہیرو کا درجہ دینے اور تاحیات مراعات فراہم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
دیگر ترامیم میں آرٹیکل 93 کے تحت وزیراعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ آرٹیکل 130 میں وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں بھی اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔