LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم

27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ منظرِ عام پر آگیا

Web Desk

8 November 2025

 وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس میں 48 شقوں میں مختلف ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ بل کے مطابق ملک میں ایک نئی “وفاقی آئینی عدالت” (Federal Constitutional Court) قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو سپریم کورٹ سے علیحدہ ہوگی۔
ترمیمی بل کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد میں ہوگا، جبکہ اس کے چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت 3 سال اور ججز کی ریٹائرمنٹ عمر 68 سال مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے، آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات سننے کا اختیار حاصل ہوگا۔
بل کے تحت آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے اور اس کے اختیارات نئی وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 175 میں بھی ترمیم شامل ہے جس کے تحت سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات محدود ہو جائیں گے۔
آرٹیکل 175-A میں ججز کی تقرری کا نیا طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے جس کے مطابق جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت، دونوں کے چیف جسٹس شامل ہوں گے۔ مزید یہ کہ دونوں عدالتوں کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے، تاہم آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے (آرٹیکل 189 میں ترمیم)۔
بل میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو کی بھی تجویز دی گئی ہے، جس میں دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس ارکان کے طور پر شامل ہوں گے۔
دفاعی امور سے متعلق آرٹیکل 243 میں بڑی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ اس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا اضافی عہدہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ساتھ ہی “فیلڈ مارشل” کو قومی ہیرو کا درجہ دینے اور تاحیات مراعات فراہم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
دیگر ترامیم میں آرٹیکل 93 کے تحت وزیراعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ آرٹیکل 130 میں وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں بھی اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔