LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیواڈا کا دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا آبنائے ملاکا کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ جنوبی سوڈان میں 2 امن فوجیوں کی ہلاکت، اقوام متحدہ کی شدید مذمت چین کا امریکا سے خود مختار ریاستوں میں آزادانہ انتخابات میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ ہیٹی میں گینگ کے حملے میں 40 افراد ہلاک، درجنوں گھر نذر آتش امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 4 اہلکار محفوظ امریکا نے ایران پر حملوں کو پابندیوں میں منتقل کر دیا، مارکو روبیو عمانی وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب کیساتھ بات چیت کو تعمیری قرار دے دیا امریکا اور ایران نے نئی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا: روسی میڈیا کا دعویٰ اسلامی اقوام میں بیداری اور اتحاد دشمن کی سازشوں کا واحد توڑ ہے، ایرانی صدر عمان کے ساتھ معاہدے کا مطلب آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا نہیں، کاظم غریب آبادی کینیڈا نے تقریباً 700 امریکی مصنوعات پر 15، 25 اور 50 فیصد ٹیرف لگا دیے ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کو سہارا دینے والے تمام معاشی ذرائع ختم کرنے کا اعلان ایران اور عمان کا ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی مرحلہ وار بحالی پر اتفاق امریکا نے عالمی سلامتی خطرے میں ڈال دی: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کو قاتل کہہ دیا

Web Desk

18 June 2026

فرانس میں منعقدہ جی سیون (G7) سربراہی اجلاس کے بعد ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روایتی اور منفرد انداز میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ایک سخت مذاکرات کار قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سامنے بیٹھے مودی کو حیران کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھنے میں ایک انتہائی خوبصورت، اچھے اور نرم مزاج انسان لگتے ہیں، بالکل ایسے جیسے کوئی فرشتہ ہو، لیکن حقیقت میں وہ اندر سے انتہائی سخت اور ایک “قاتل سودے باز” (Killer Negotiator) ہیں۔ کاروباری اور سیاسی دنیا میں ٹرمپ کا یہ جملہ کسی ایسے ماہر مذاکرات کار کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنے مفادات کا سختی سے تحفظ کرنا جانتا ہو۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی صدر نے ایران کے ساتھ طے پانے والے سفارتی معاہدے اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے تزویراتی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اگر ایران کے ساتھ یہ اہم پیش رفت نہ ہوتی اور بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز تجارتی آمد و رفت کے لیے بند رہتی، تو پوری دنیا کو 1929ء کی عظیم کساد بازاری (Great Depression) جیسی سنگین اور ہولناک معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی بین الاقوامی ترسیل کو برقرار رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے اور اس کی بندش کے عالمی معیشت پر دور رس تباہ کن اثرات مرتب ہوتے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ہی آبنائے ہرمز کا مستقل کھلا رہنا ممکن ہوا ہے، جس سے اب عالمی منڈیوں میں استحکام آ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے ساتھ یہ تاریخی معاہدہ نہ ہوتا تو آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے کی ضمانت دینا کسی طور ممکن نہ تھا، جس کی وجہ سے پوری دنیا شدید ترین معاشی دباؤ کا شکار ہو جاتی۔