LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے ڈرون آذربائیجان میں جا گرے، دو شہری زخمی، ایئرپورٹ کو نقصان، سفیر طلب وفاقی وزارتوں میں ایک لاکھ سے زائد آسامیاں خالی، قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش سینیٹ نے نیب ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا، چیئرمین کی مدت ملازمت اور اپیلوں میں اصلاحات شامل پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار آپریشن غضب للحق کے دوران قندھار میں 205 کور کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ، سکیورٹی ذرائع پاکستان کی تمام بندرگاہوں کے داخلے عارضی طور پر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جعلی قرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی علاج کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا وزیراعظم سے جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، مشرق وسطی پر اعتماد میں لیا پنجاب حکومت کا “وزیراعلیٰ رحمت کارڈ” متعارف کرانے کا فیصلہ، بیواؤں کو ایک لاکھ روپے امداد دی جائے گی آدھا رمضان گزر گیا مگر کے پی حکومت نے پیکج کی تقسیم شروع نہیں کی، عظمیٰ بخاری سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل سننے کا اختیار نہیں: وفاقی آئینی عدالت ایران کے امریکا اور اسرائیل پر تازہ حملے، 10 ڈرونز تباہ، 500 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ قطری حکام کی امریکی سفارتخانے کے قریب رہنے والوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت بھارت میں سیاسی ہلچل: ایرانی جہاز پر حملے کے بعد مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات آبنائے ہرمز پر تناؤ اور پاسدارانِ انقلاب کا چیلنج

ڈک چینی: امریکا کے طاقتور نائب صدر اور سیاست کے پیچیدہ ستون

Web Desk

4 November 2025

ڈک چینی امریکی سیاست کی ان شخصیتوں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہدے کی ذمہ داریاں نبھائیں بلکہ ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا۔

وہ جارج ڈبلیو بش کے دور صدارت (2001–2009) میں امریکا کے نائب صدر رہے اور ان کی قیادت امریکی تاریخ کے ایک متنازع اور اہم دور کی نمائندگی کرتی ہے۔چینی کا سیاسی کیریئر کانگریس کے رکن سے شروع ہوا اور بعد میں مختلف دفاعی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد وہ نائب صدر بنے۔ ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خصوصیت حکمت عملی، دور اندیشی، اور ملکی مفاد کو مقدم رکھنے کا جذبہ تھا۔ وہ آسان فیصلے نہیں کرتے تھے، بلکہ ضرورت پڑنے پر مشکل، پیچیدہ اور متنازع فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔نائن الیون کے بعد امریکا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ عراق اور افغانستان میں فوجی کارروائیوں میں ان کی رائے کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔ بعض اوقات ان کے فیصلوں پر شدید تنقید بھی ہوئی، خاص طور پر عراق کی جنگ اور داخلی سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے، مگر ان کے حامی انہیں ملکی سلامتی کے لیے بلاامتیاز اور مضبوط رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ڈک چینی کی سیاست کی سب سے بڑی طاقت ان کا اپنے موقف پر قائم رہنا اور حالات کے باوجود سچائی کے ساتھ فیصلے کرنا تھی۔ وہ ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھتے، چاہے ان کے فیصلے عوام یا میڈیا کے لیے مشکل کیوں نہ ہوں۔ یہی ان کی شخصیت کو دیگر سیاسی شخصیات سے ممتاز بناتا ہے۔نائب صدارت کے بعد بھی، ڈک چینی نے مختلف بین الاقوامی مشاورتی اداروں اور دفاعی امور میں خدمات انجام دیں اور امریکی سیاست میں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ ان کی زندگی اور فیصلے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ طاقت صرف عہدے یا اختیار میں نہیں بلکہ سچائی، استقامت اور ملکی مفاد کے لیے فیصلہ کرنے کی ہمت میں ہوتی ہے۔2025 میں ڈک چینی کا انتقال امریکی سیاست میں ایک دور کے اختتام کی علامت ہے۔ ان کی قیادت، پیچیدہ فیصلے اور دور اندیشی آج بھی سیاسی مباحثوں اور تاریخ میں یادگار رہیں گ