LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کی آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ثالثی کی پیشکش فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے ترکیہ کو 2 صفر سے شکست دے دی واشنگٹن میں امریکی لڑاکا طیارہ تباہ، پائلٹ محفوظ رہا امریکا ایران معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا فٹ بال ورلڈ کپ: قطر اور سوئٹزر لینڈ کا میچ ایک، ایک گول سے برابر ایران سے معاہدہ کل دستخط کے لیے تیار ہے، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار

ڈک چینی: امریکا کے طاقتور نائب صدر اور سیاست کے پیچیدہ ستون

Web Desk

4 November 2025

ڈک چینی امریکی سیاست کی ان شخصیتوں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہدے کی ذمہ داریاں نبھائیں بلکہ ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا۔

وہ جارج ڈبلیو بش کے دور صدارت (2001–2009) میں امریکا کے نائب صدر رہے اور ان کی قیادت امریکی تاریخ کے ایک متنازع اور اہم دور کی نمائندگی کرتی ہے۔چینی کا سیاسی کیریئر کانگریس کے رکن سے شروع ہوا اور بعد میں مختلف دفاعی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد وہ نائب صدر بنے۔ ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خصوصیت حکمت عملی، دور اندیشی، اور ملکی مفاد کو مقدم رکھنے کا جذبہ تھا۔ وہ آسان فیصلے نہیں کرتے تھے، بلکہ ضرورت پڑنے پر مشکل، پیچیدہ اور متنازع فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔نائن الیون کے بعد امریکا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ عراق اور افغانستان میں فوجی کارروائیوں میں ان کی رائے کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔ بعض اوقات ان کے فیصلوں پر شدید تنقید بھی ہوئی، خاص طور پر عراق کی جنگ اور داخلی سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے، مگر ان کے حامی انہیں ملکی سلامتی کے لیے بلاامتیاز اور مضبوط رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ڈک چینی کی سیاست کی سب سے بڑی طاقت ان کا اپنے موقف پر قائم رہنا اور حالات کے باوجود سچائی کے ساتھ فیصلے کرنا تھی۔ وہ ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھتے، چاہے ان کے فیصلے عوام یا میڈیا کے لیے مشکل کیوں نہ ہوں۔ یہی ان کی شخصیت کو دیگر سیاسی شخصیات سے ممتاز بناتا ہے۔نائب صدارت کے بعد بھی، ڈک چینی نے مختلف بین الاقوامی مشاورتی اداروں اور دفاعی امور میں خدمات انجام دیں اور امریکی سیاست میں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ ان کی زندگی اور فیصلے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ طاقت صرف عہدے یا اختیار میں نہیں بلکہ سچائی، استقامت اور ملکی مفاد کے لیے فیصلہ کرنے کی ہمت میں ہوتی ہے۔2025 میں ڈک چینی کا انتقال امریکی سیاست میں ایک دور کے اختتام کی علامت ہے۔ ان کی قیادت، پیچیدہ فیصلے اور دور اندیشی آج بھی سیاسی مباحثوں اور تاریخ میں یادگار رہیں گ