LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال

ڈک چینی: امریکا کے طاقتور نائب صدر اور سیاست کے پیچیدہ ستون

Web Desk

4 November 2025

ڈک چینی امریکی سیاست کی ان شخصیتوں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہدے کی ذمہ داریاں نبھائیں بلکہ ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا۔

وہ جارج ڈبلیو بش کے دور صدارت (2001–2009) میں امریکا کے نائب صدر رہے اور ان کی قیادت امریکی تاریخ کے ایک متنازع اور اہم دور کی نمائندگی کرتی ہے۔چینی کا سیاسی کیریئر کانگریس کے رکن سے شروع ہوا اور بعد میں مختلف دفاعی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد وہ نائب صدر بنے۔ ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خصوصیت حکمت عملی، دور اندیشی، اور ملکی مفاد کو مقدم رکھنے کا جذبہ تھا۔ وہ آسان فیصلے نہیں کرتے تھے، بلکہ ضرورت پڑنے پر مشکل، پیچیدہ اور متنازع فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔نائن الیون کے بعد امریکا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ عراق اور افغانستان میں فوجی کارروائیوں میں ان کی رائے کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔ بعض اوقات ان کے فیصلوں پر شدید تنقید بھی ہوئی، خاص طور پر عراق کی جنگ اور داخلی سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے، مگر ان کے حامی انہیں ملکی سلامتی کے لیے بلاامتیاز اور مضبوط رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ڈک چینی کی سیاست کی سب سے بڑی طاقت ان کا اپنے موقف پر قائم رہنا اور حالات کے باوجود سچائی کے ساتھ فیصلے کرنا تھی۔ وہ ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھتے، چاہے ان کے فیصلے عوام یا میڈیا کے لیے مشکل کیوں نہ ہوں۔ یہی ان کی شخصیت کو دیگر سیاسی شخصیات سے ممتاز بناتا ہے۔نائب صدارت کے بعد بھی، ڈک چینی نے مختلف بین الاقوامی مشاورتی اداروں اور دفاعی امور میں خدمات انجام دیں اور امریکی سیاست میں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ ان کی زندگی اور فیصلے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ طاقت صرف عہدے یا اختیار میں نہیں بلکہ سچائی، استقامت اور ملکی مفاد کے لیے فیصلہ کرنے کی ہمت میں ہوتی ہے۔2025 میں ڈک چینی کا انتقال امریکی سیاست میں ایک دور کے اختتام کی علامت ہے۔ ان کی قیادت، پیچیدہ فیصلے اور دور اندیشی آج بھی سیاسی مباحثوں اور تاریخ میں یادگار رہیں گ