LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کو پہلے پائیدار سویرن پانڈا بانڈ کے اجرا پر 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نواز دیا گیا پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، طلال چودھری ایران اور امریکا مزید کشیدگی روک کر مذاکرات کی طرف واپس آئیں: چین وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت کے لیے حکمت عملی بنانے کا حکم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈک چینی: امریکا کے طاقتور نائب صدر اور سیاست کے پیچیدہ ستون

Web Desk

4 November 2025

ڈک چینی امریکی سیاست کی ان شخصیتوں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہدے کی ذمہ داریاں نبھائیں بلکہ ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا۔

وہ جارج ڈبلیو بش کے دور صدارت (2001–2009) میں امریکا کے نائب صدر رہے اور ان کی قیادت امریکی تاریخ کے ایک متنازع اور اہم دور کی نمائندگی کرتی ہے۔چینی کا سیاسی کیریئر کانگریس کے رکن سے شروع ہوا اور بعد میں مختلف دفاعی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد وہ نائب صدر بنے۔ ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خصوصیت حکمت عملی، دور اندیشی، اور ملکی مفاد کو مقدم رکھنے کا جذبہ تھا۔ وہ آسان فیصلے نہیں کرتے تھے، بلکہ ضرورت پڑنے پر مشکل، پیچیدہ اور متنازع فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔نائن الیون کے بعد امریکا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ عراق اور افغانستان میں فوجی کارروائیوں میں ان کی رائے کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔ بعض اوقات ان کے فیصلوں پر شدید تنقید بھی ہوئی، خاص طور پر عراق کی جنگ اور داخلی سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے، مگر ان کے حامی انہیں ملکی سلامتی کے لیے بلاامتیاز اور مضبوط رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ڈک چینی کی سیاست کی سب سے بڑی طاقت ان کا اپنے موقف پر قائم رہنا اور حالات کے باوجود سچائی کے ساتھ فیصلے کرنا تھی۔ وہ ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھتے، چاہے ان کے فیصلے عوام یا میڈیا کے لیے مشکل کیوں نہ ہوں۔ یہی ان کی شخصیت کو دیگر سیاسی شخصیات سے ممتاز بناتا ہے۔نائب صدارت کے بعد بھی، ڈک چینی نے مختلف بین الاقوامی مشاورتی اداروں اور دفاعی امور میں خدمات انجام دیں اور امریکی سیاست میں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ ان کی زندگی اور فیصلے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ طاقت صرف عہدے یا اختیار میں نہیں بلکہ سچائی، استقامت اور ملکی مفاد کے لیے فیصلہ کرنے کی ہمت میں ہوتی ہے۔2025 میں ڈک چینی کا انتقال امریکی سیاست میں ایک دور کے اختتام کی علامت ہے۔ ان کی قیادت، پیچیدہ فیصلے اور دور اندیشی آج بھی سیاسی مباحثوں اور تاریخ میں یادگار رہیں گ