پنجاب میں 9 لاکھ کسان کارڈ جاری، 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم
Web Desk
1 July 2026
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا ایک اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے کاشتکاروں کے لیے جاری ‘وزیراعلیٰ کسان کارڈ پروگرام’ اور ‘زرعی میکانائزیشن’ کے تاریخی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں اب تک 9 لاکھ کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس پروگرام کا دائرہ کار مزید بڑھاتے ہوئے اس میں 50 ہزار نئے کاشتکاروں کو شامل کر لیا گیا ہے اور اب یہ مجموعی تعداد 10 لاکھ کے بڑے ہدف کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔
بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ کسان کارڈ کے تحت کاشتکاروں کو اب تک 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ سب سے خوش آئند بات یہ رہی کہ کسانوں کو دیے گئے ان قرضوں کی واپسی (ریکوری) کی شرح ریکارڈ 99 فیصد رہی ہے۔ کسانوں نے جاری کردہ ان قرضوں کا 80 فیصد حصہ براہِ راست کھادوں کی خریداری کے لیے استعمال کیا۔ مزید بتایا گیا کہ خریف کی فصل کے لیے 116 ارب روپے کے قرضے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 62 ارب روپے استعمال ہو چکے ہیں اور کسانوں نے اس رقم کا 75 فیصد حصہ خالصتاً کھاد پر خرچ کیا۔
اجلاس میں مریم نواز شریف کو بتایا گیا کہ نامور بین الاقوامی آڈٹ فرم ‘KPMG’ کسان کارڈ پروگرام کے زراعت پر مثبت اثرات سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ 30 ستمبر تک پیش کرے گی، جس کے بعد اس انقلابی پروگرام کی عالمی سطح پر تشہیر بھی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پنجاب کے کسان کو محض نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے حقیقی معنوں میں بااختیار (Empower) کیا ہے۔ اجلاس میں پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹریکٹر پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے حکام نے کہا کہ صوبہ بھر میں تین مراحل کے دوران 34 ہزار گرین ٹریکٹرز کسانوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ڈیٹا کے مطابق ٹریکٹر حاصل کرنے والے 41 فیصد کاشتکار ایسے ہیں جنہیں زندگی میں پہلی بار اپنا ٹریکٹر ملا ہے۔ 20فیصد کسانوں نے ٹریکٹر کے ساتھ ساتھ جدید زرعی آلات بھی خریدے ہیں۔ 32 فیصد کاشتکار اب دیگر چھوٹے کسانوں کو سروس پرووائیڈر کے طور پر خدمات فراہم کر کے اپنا روزگار کما رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار تین سال کے قلیل عرصے کے دوران کسانوں کو 50 ہزار ٹریکٹرز دیے جائیں گے، ماضی کی کسی حکومت نے اتنی بڑی تعداد میں ٹریکٹرز فراہم نہیں کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹریکٹرز کی تقسیم کے پورے طریقہ کار سے انسانی مداخلت کو مکمل طور پر ختم کر کے اسے 100 فیصد کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم کی اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت
17 August 2026
بانی پی ٹی آئی کی بگڑتی صحت کے خدشات کی تصدیق ہوگئی: شیخ وقاص اکرم
17 August 2026
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی
17 August 2026
ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی
17 August 2026
چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال
17 August 2026
کسی کو سندھ سے مخالفت نہیں، کارکردگی پر بات ہوگی: عظمیٰ بخاری
17 August 2026
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ
17 August 2026
وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ
17 August 2026