LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

چین نے نایاب معدنیات کی برآمد پر پابندیاں جزوی طور پر ختم کر دیں

Web Desk

7 November 2025

چین کی وزارت تجارت نے اعلان کیا ہے کہ نایاب معدنیات کی برآمد سے متعلق چند ایکسپورٹ کنٹرول اقدامات معطل کر دیے گئے ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ فیصلہ 9 اکتوبر کو کیا گیا تھا اور اس کا مقصد عالمی منڈی میں سپلائی کے بہاؤ کو بہتر بنانا اور تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔
چین کی جانب سے یہ اقدام امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے کے تحت کیا گیا، جس میں نایاب معدنیات کی برآمد پر عائد کچھ پابندیوں کو ختم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف چینی ایکسپورٹرز کو فائدہ ہوگا بلکہ عالمی صنعتی سیکٹر، خاص طور پر الیکٹرانک اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں میں سپلائی چین مستحکم ہو سکے گی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں نایاب معدنیات کی طلب بڑھ رہی ہے، اور کئی ممالک اس اہم وسائل کے حصول کے لیے چین پر انحصار کرتے ہیں۔ چین کی یہ پالیسی عالمی مارکیٹ میں اس اہم صنعت کے توازن اور استحکام کے لیے اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔