LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سان ڈیاگو سانحہ: متاثرہ مسلم کمیونٹی سے یکجہتی، آئی سی این اے ریلیف قیادت کا دورہ کشمیر میں نہتے نوجوانوں کو شہید کیا گیا، ریاست کہاں جارہی ہے؟  سلمان اکرم راجہ اقتصادی سروے میں غربت بڑھنے کا انکشاف، بلوچستان سب سے متاثرہ صوبہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کا بیٹھک؛ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس قومی اقتصادی سروے پیش، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا: عطا تارڑ قومی اسمبلی اجلاس؛ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی کی رکنیت پورے بجٹ سیشن کے لیے معطل توانائی بچت مہم، کاروباری اوقات کار کا نیا نوٹیفکیشن جاری وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دے گی: دفتر خارجہ وزیرِ خزانہ نے اکنامک سروے آف پاکستان 26-2025ء وزیرِ اعظم کو پیش کر دیا ایس آئی ایف سی کی بدولت پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں نمایاں کامیابیاں مریم نواز کا شدید گرمی میں عوام کیلئے ٹھنڈے پانی کا اہتمام کرنے کا حکم امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، 6 افراد 4 ادارے متاثر ایران امریکہ تناؤ، بحرین میں فضائی حملے سے بچاؤ کے سائرن بج اٹھے

چین میں دنیا کا پہلا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر تجارتی بنیادوں پر فعال

Web Desk

11 June 2026

شنگھائی: ٹیکنالوجی کی دوڑ میں دنیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چین نے سمندر کی تہہ میں دنیا کا پہلا تجارتی زیرِ آب ڈیٹا سینٹر (Commercial Underwater Data Center) کامیابی سے فعال کر دیا ہے۔ “دی گارڈین” کی رپورٹ کے مطابق، یہ جدید ترین مرکز زیادہ تر سمندری ہوا سے پیدا ہونے والی صاف و ماحول دوست (Green Energy) توانائی پر چلتا ہے، جو مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔منصوبے کا محلِ وقوع اور لاگت:اس منصوبے کا نام “شنگھائی لنگانگ انڈر سی ڈیٹا سینٹر ڈیمانسٹریشن پراجیکٹ” ہے، جو مشرقی شنگھائی کے ہائی ٹیک فری ٹریڈ زون ‘لنگانگ’ کے ساحل کے قریب، سمندر کی سطح سے تقریباً 10 میٹر نیچے نصب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں ایلون مسک کی مشہور کمپنی ٹیسلا (Tesla) کی گیگا فیکٹری بھی موجود ہے۔ سرکاری کمپنی چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن اور ہائی کلاؤڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے بننے والے اس منصوبے پر تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی خطیر لاگت آئی ہے اور اس کی مجموعی استعداد 24 میگاواٹ ہے۔قدرتی کولنگ اور توانائی کی بچت:روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل چلنے والے سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن صاف پانی اور بھاری بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، چین کا یہ زیرِ آب ڈیٹا سینٹر درج ذیل خصوصیات کا حامل ہے:بجلی کی 22 فیصد بچت: یہ روایتی زمینی سینٹرز کے مقابلے میں 22 فیصد کم بجلی استعمال کرتا ہے۔95 فیصد گرین انرجی: اس مرکز کی توانائی کا 95 فیصد حصہ قریبی سمندری ہوا سے چلنے والے ونڈ فارم (Offshore Wind Farm) سے حاصل ہوتا ہے۔پانی کے استعمال میں 90 فیصد کمی: سمندر کا ٹھنڈا پانی قدرتی طور پر سرورز کے لیے کولنگ (Cooling) کا کام کرتا ہے، جس سے صاف پانی کا ضیاع 90 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز کا مقابلہ اور مستقبل کے رجحاناتاگرچہ مائیکروسافٹ نے 2018 میں اسکاٹ لینڈ کے قریب زیرِ آب ڈیٹا سینٹر کا آزمائشی تجربہ کیا تھا، لیکن وہ اسے تجارتی سطح پر فعال نہیں کر سکا، جس کے بعد چین یہ اعزاز حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیاں مختلف ماحول دوست ماڈلز پر کام کر رہی ہیں:ملک / کمپنیمنصوبے کی نوعیتموجودہ اسٹیٹسچین (شنگھائی پراجیکٹ)زیرِ آب، سمندری ہوا (Wind) سے چلنے والا ڈیٹا سینٹرکامیابی سے فعال (مئی میں آغاز)امریکہ (پینتھالاسا)سمندر میں تیرتے (Floating) ڈیٹا سینٹرز جو لہروں سے بجلی بنائیں گےتیاری اور مینوفیکچرنگ کے مراحل میںامریکہ (اسپیس ایکس)خلا (Space) میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے امکانات کا جائزہتحقیقی مرحلے میںبھارت (انڈیا)زمین کے مدار (Orbit) میں قائم ہونے والے ڈیٹا سینٹرزمنصوبوں پر ابتدائی کام جاری