چین میں دنیا کا پہلا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر تجارتی بنیادوں پر فعال
Web Desk
11 June 2026
شنگھائی: ٹیکنالوجی کی دوڑ میں دنیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چین نے سمندر کی تہہ میں دنیا کا پہلا تجارتی زیرِ آب ڈیٹا سینٹر (Commercial Underwater Data Center) کامیابی سے فعال کر دیا ہے۔ “دی گارڈین” کی رپورٹ کے مطابق، یہ جدید ترین مرکز زیادہ تر سمندری ہوا سے پیدا ہونے والی صاف و ماحول دوست (Green Energy) توانائی پر چلتا ہے، جو مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔منصوبے کا محلِ وقوع اور لاگت:اس منصوبے کا نام “شنگھائی لنگانگ انڈر سی ڈیٹا سینٹر ڈیمانسٹریشن پراجیکٹ” ہے، جو مشرقی شنگھائی کے ہائی ٹیک فری ٹریڈ زون ‘لنگانگ’ کے ساحل کے قریب، سمندر کی سطح سے تقریباً 10 میٹر نیچے نصب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں ایلون مسک کی مشہور کمپنی ٹیسلا (Tesla) کی گیگا فیکٹری بھی موجود ہے۔ سرکاری کمپنی چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن اور ہائی کلاؤڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے بننے والے اس منصوبے پر تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی خطیر لاگت آئی ہے اور اس کی مجموعی استعداد 24 میگاواٹ ہے۔قدرتی کولنگ اور توانائی کی بچت:روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل چلنے والے سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن صاف پانی اور بھاری بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، چین کا یہ زیرِ آب ڈیٹا سینٹر درج ذیل خصوصیات کا حامل ہے:بجلی کی 22 فیصد بچت: یہ روایتی زمینی سینٹرز کے مقابلے میں 22 فیصد کم بجلی استعمال کرتا ہے۔95 فیصد گرین انرجی: اس مرکز کی توانائی کا 95 فیصد حصہ قریبی سمندری ہوا سے چلنے والے ونڈ فارم (Offshore Wind Farm) سے حاصل ہوتا ہے۔پانی کے استعمال میں 90 فیصد کمی: سمندر کا ٹھنڈا پانی قدرتی طور پر سرورز کے لیے کولنگ (Cooling) کا کام کرتا ہے، جس سے صاف پانی کا ضیاع 90 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز کا مقابلہ اور مستقبل کے رجحاناتاگرچہ مائیکروسافٹ نے 2018 میں اسکاٹ لینڈ کے قریب زیرِ آب ڈیٹا سینٹر کا آزمائشی تجربہ کیا تھا، لیکن وہ اسے تجارتی سطح پر فعال نہیں کر سکا، جس کے بعد چین یہ اعزاز حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیاں مختلف ماحول دوست ماڈلز پر کام کر رہی ہیں:ملک / کمپنیمنصوبے کی نوعیتموجودہ اسٹیٹسچین (شنگھائی پراجیکٹ)زیرِ آب، سمندری ہوا (Wind) سے چلنے والا ڈیٹا سینٹرکامیابی سے فعال (مئی میں آغاز)امریکہ (پینتھالاسا)سمندر میں تیرتے (Floating) ڈیٹا سینٹرز جو لہروں سے بجلی بنائیں گےتیاری اور مینوفیکچرنگ کے مراحل میںامریکہ (اسپیس ایکس)خلا (Space) میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے امکانات کا جائزہتحقیقی مرحلے میںبھارت (انڈیا)زمین کے مدار (Orbit) میں قائم ہونے والے ڈیٹا سینٹرزمنصوبوں پر ابتدائی کام جاری
متعلقہ عنوانات
گوگل میپس میں جلد کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرانے کا امکان
6 July 2026
ٹیلی کام بل سے کسی کی ذاتی زمین اور جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا: شزا فاطمہ
6 July 2026
یوٹیوب نے تصاویر پر مبنی انقلابی فیچر متعارف کروا دیا
5 July 2026
مشہور کمپنی کا اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے 551 فلمیں ہٹانے کا اعلان
4 July 2026
یوٹیوب نے شارٹس فارمیٹ میں نئے فیچر متعارف کرا دیے
3 July 2026
پاکستان میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی سہولیات میں نمایاں اضافہ، عالمی درجہ بندی بھی بہتر
3 July 2026
انٹرنیٹ کو بھی بنیادی سروس قرار دینے پر غور، وزارت آئی ٹی کا قانونی جائزہ مکمل
3 July 2026
زمین کو سیارچے سے بچانے کے لیے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی تجویز
2 July 2026