LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

چین میں دنیا کا پہلا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر تجارتی بنیادوں پر فعال

Web Desk

11 June 2026

شنگھائی: ٹیکنالوجی کی دوڑ میں دنیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چین نے سمندر کی تہہ میں دنیا کا پہلا تجارتی زیرِ آب ڈیٹا سینٹر (Commercial Underwater Data Center) کامیابی سے فعال کر دیا ہے۔ “دی گارڈین” کی رپورٹ کے مطابق، یہ جدید ترین مرکز زیادہ تر سمندری ہوا سے پیدا ہونے والی صاف و ماحول دوست (Green Energy) توانائی پر چلتا ہے، جو مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔منصوبے کا محلِ وقوع اور لاگت:اس منصوبے کا نام “شنگھائی لنگانگ انڈر سی ڈیٹا سینٹر ڈیمانسٹریشن پراجیکٹ” ہے، جو مشرقی شنگھائی کے ہائی ٹیک فری ٹریڈ زون ‘لنگانگ’ کے ساحل کے قریب، سمندر کی سطح سے تقریباً 10 میٹر نیچے نصب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں ایلون مسک کی مشہور کمپنی ٹیسلا (Tesla) کی گیگا فیکٹری بھی موجود ہے۔ سرکاری کمپنی چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن اور ہائی کلاؤڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے بننے والے اس منصوبے پر تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی خطیر لاگت آئی ہے اور اس کی مجموعی استعداد 24 میگاواٹ ہے۔قدرتی کولنگ اور توانائی کی بچت:روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل چلنے والے سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن صاف پانی اور بھاری بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، چین کا یہ زیرِ آب ڈیٹا سینٹر درج ذیل خصوصیات کا حامل ہے:بجلی کی 22 فیصد بچت: یہ روایتی زمینی سینٹرز کے مقابلے میں 22 فیصد کم بجلی استعمال کرتا ہے۔95 فیصد گرین انرجی: اس مرکز کی توانائی کا 95 فیصد حصہ قریبی سمندری ہوا سے چلنے والے ونڈ فارم (Offshore Wind Farm) سے حاصل ہوتا ہے۔پانی کے استعمال میں 90 فیصد کمی: سمندر کا ٹھنڈا پانی قدرتی طور پر سرورز کے لیے کولنگ (Cooling) کا کام کرتا ہے، جس سے صاف پانی کا ضیاع 90 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز کا مقابلہ اور مستقبل کے رجحاناتاگرچہ مائیکروسافٹ نے 2018 میں اسکاٹ لینڈ کے قریب زیرِ آب ڈیٹا سینٹر کا آزمائشی تجربہ کیا تھا، لیکن وہ اسے تجارتی سطح پر فعال نہیں کر سکا، جس کے بعد چین یہ اعزاز حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیاں مختلف ماحول دوست ماڈلز پر کام کر رہی ہیں:ملک / کمپنیمنصوبے کی نوعیتموجودہ اسٹیٹسچین (شنگھائی پراجیکٹ)زیرِ آب، سمندری ہوا (Wind) سے چلنے والا ڈیٹا سینٹرکامیابی سے فعال (مئی میں آغاز)امریکہ (پینتھالاسا)سمندر میں تیرتے (Floating) ڈیٹا سینٹرز جو لہروں سے بجلی بنائیں گےتیاری اور مینوفیکچرنگ کے مراحل میںامریکہ (اسپیس ایکس)خلا (Space) میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے امکانات کا جائزہتحقیقی مرحلے میںبھارت (انڈیا)زمین کے مدار (Orbit) میں قائم ہونے والے ڈیٹا سینٹرزمنصوبوں پر ابتدائی کام جاری