LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا

24 گھنٹوں میں 2 کروڑ بیرل تیل آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈیوں کو روانہ ہوا، کرس رائٹ

Web Desk

25 June 2026

امریکہ کے وزیر توانائی کرس رائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کے راستے 2 کروڑ بیرل خام تیل عالمی منڈیوں کی جانب روانہ کیا گیا ہے۔

نیویارک میں عالمی توانائی فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر توانائی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کا عمل مسلسل جاری ہے، تاہم عالمی سطح پر تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں اب بھی بعض بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

کرس رائٹ نے ایران پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس اہم ترین آبی گزرگاہ میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگیں تیل کی سپلائی کو سو فیصد معمول پر لانے میں تاخیر کا بنیادی سبب بن رہی ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی رسد کے لیے دنیا کا سب سے حساس اور انتہائی اہم ترین بحری راستہ شمار کیا جاتا ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر براہِ راست اور گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔