امریکی عدالت نے غیر قانونی تارکین وطن کو تیسرے ملک بھیجے پر پابندی ختم کر دی
Web Desk
1 October 2026
امریکی سپریم کورٹ نے تارکینِ وطن کے اخراج سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ان کے آبائی ملک کے بجائے کسی ‘تیسرے ملک’ میں ڈی پورٹ (بے دخل) کیے جانے پر عائد عدالتی پابندی ختم کر دی ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، قدامت پسند اکثریت رکھنے والی امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ہنگامی درخواست منظور کرتے ہوئے زیریں عدالت کے اس فیصلے کو معطل کر دیا جس نے تیسرے ملک میں ملک بدری کا عمل روک رکھا تھا۔
زیریں عدالت نے اپنے حکم میں شرط عائد کی تھی کہ بے دخل کیے جانے والے تارکینِ وطن کو پیشگی مکمل معلومات فراہم کی جائیں کہ انہیں کس ملک بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ وہاں لاحق ممکنہ خطرات سے متعلق عدالت سے رجوع کر سکیں۔ تاہم، سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ میں شامل 3 لبرل ججز نے اس فیصلہ سازی کی مخالفت کی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے موقف اپنایا ہے کہ متعدد تارکین اپنے اصل وطن جانے سے انکار کرتے ہیں، لہٰذا انہیں ان ممالک کے ساتھ معاہدوں کے تحت کسی تیسرے ملک میں منتقل کرنا قانونی اور انتظامی ضرورت ہے۔ امریکی حکومت نے ایسے کئی ممالک کو معاوضہ دے کر تارکین کی منتقلی کے معاہدے کر رکھے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی حتمی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے دسمبر میں باضابطہ سماعت مقرر کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
متعلقہ عنوانات
افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی کارروائی، 22 ہلاک، ٹھکانے تباہ
1 October 2026
خانیوال میں بیٹھے پاکستانی نوجوان نے امریکی ڈاکخانے کو 126 ملین ڈالر کا چونا لگا دیا
1 October 2026
ایران میں مہنگائی کی شرح 83 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
1 October 2026
نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے روسی جوہری دھمکیوں کو مسترد کر دیا
1 October 2026
یوکرین کا روس کے نئے سیٹلائٹ نیٹ ورک کی تیاری میں مدد دینے والوں پر پابندیوں کا مطالبہ
1 October 2026
ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث تھا: کینیڈین وزیراعظم
1 October 2026
فرانس کا سعودی توانائی تنصیبات کے تحفظ کیلئے فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ
1 October 2026
امریکی وزیر دفاع کا فوج میں ’’خودکار جنگی کمانڈ‘‘ قائم کرنے کا اعلان
1 October 2026