LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی کارروائی، 22 ہلاک، ٹھکانے تباہ خانیوال میں بیٹھے پاکستانی نوجوان نے امریکی ڈاکخانے کو 126 ملین ڈالر کا چونا لگا دیا ایران میں مہنگائی کی شرح 83 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے روسی جوہری دھمکیوں کو مسترد کر دیا یوکرین کا روس کے نئے سیٹلائٹ نیٹ ورک کی تیاری میں مدد دینے والوں پر پابندیوں کا مطالبہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث تھا: کینیڈین وزیراعظم فرانس کا سعودی توانائی تنصیبات کے تحفظ کیلئے فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ امریکی وزیر دفاع کا فوج میں ’’خودکار جنگی کمانڈ‘‘ قائم کرنے کا اعلان پائلٹ اور اسرائیلی مسافروں کی بہادری ناقابلِ یقین تھی، ٹرمپ کا فلائی دبئی واقعے پر ردعمل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کیلئے چوتھا غیر رسمی ووٹنگ مرحلہ مکمل شامیوں کی وطن واپسی، تباہ شدہ گھروں اور روزگار کی قلت بڑا چیلنج ہے: اقوام متحدہ سعودی ولی عہد سے اماراتی نائب صدر کی ملاقات، خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال سعودی وزیر خارجہ کی امریکی سینیٹ کمیٹی کے سربراہ سے ملاقات، تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال امریکی عدالت نے غیر قانونی تارکین وطن کو تیسرے ملک بھیجے پر پابندی ختم کر دی چین اور پاکستان ہر موسم کے سٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں، چینی سفیر

امریکی عدالت نے غیر قانونی تارکین وطن کو تیسرے ملک بھیجے پر پابندی ختم کر دی

Web Desk

1 October 2026

امریکی سپریم کورٹ نے تارکینِ وطن کے اخراج سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ان کے آبائی ملک کے بجائے کسی ‘تیسرے ملک’ میں ڈی پورٹ (بے دخل) کیے جانے پر عائد عدالتی پابندی ختم کر دی ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، قدامت پسند اکثریت رکھنے والی امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ہنگامی درخواست منظور کرتے ہوئے زیریں عدالت کے اس فیصلے کو معطل کر دیا جس نے تیسرے ملک میں ملک بدری کا عمل روک رکھا تھا۔

زیریں عدالت نے اپنے حکم میں شرط عائد کی تھی کہ بے دخل کیے جانے والے تارکینِ وطن کو پیشگی مکمل معلومات فراہم کی جائیں کہ انہیں کس ملک بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ وہاں لاحق ممکنہ خطرات سے متعلق عدالت سے رجوع کر سکیں۔ تاہم، سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ میں شامل 3 لبرل ججز نے اس فیصلہ سازی کی مخالفت کی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے موقف اپنایا ہے کہ متعدد تارکین اپنے اصل وطن جانے سے انکار کرتے ہیں، لہٰذا انہیں ان ممالک کے ساتھ معاہدوں کے تحت کسی تیسرے ملک میں منتقل کرنا قانونی اور انتظامی ضرورت ہے۔ امریکی حکومت نے ایسے کئی ممالک کو معاوضہ دے کر تارکین کی منتقلی کے معاہدے کر رکھے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی حتمی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے دسمبر میں باضابطہ سماعت مقرر کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔