LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کی پھر ایران امریکا تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت کے ساتھ جاری رہے گی: فیلڈ مارشل متحدہ عرب امارات سے 3,494 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، بیشتر جرائم یا غیر قانونی قیام کے باعث نکالے گئے؛ وفاقی وزیر پاکستان نے تیل و گیس کے 8 ایکسپلوریشن بلاکس حاصل کر لئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پرنس رحیم آغا خان کے اعزاز میں ناشتہ کی تقریب ؛ مرحوم پرنس کریم آغا خان چہارم کی خدمات پر یادگاری ڈاک ٹکٹ پیش محسن نقوی کی عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کی اسلام قبول کرنے والی خاتون عائشہ کو اپنی مرضی سے رہنے کی اجازت دنیا فلوٹیلا کارکنوں سے بدسلوکی کا نوٹس لے، محفوظ واپسی یقینی بنائے: پاکستان شمالی وزیرستان میں خارجی کمانڈر عمر 4 دہشت گردوں سمیت جہنم واصل وزیرِ اعظم کی ای سی سی ارکان کی تعداد میں اضافے کی منظوری میر واعظ مولوی محمد فاروق اور عبدالغنی لون کا آج یومِ شہادت پی ٹی آئی ارکان اسمبلی و رہنما 23 جولائی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم سلامتی کونسل ایران کیخلاف بلا اشتعال حملے روکنے میں ناکام رہی: ایران کی شدید تنقید وزیراعلیٰ مریم نواز کا ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کا اعادہ پاک چین سفارتی تعلقات 75 سال میں پائیدار دوستی کی شاندار مثال بن گئے: صدر، وزیراعظم

خبردار! ہیکرز نے واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کرنے کا نیا راستہ ڈھونڈ نکالا

Web Desk

24 December 2025

سیکیورٹی محققین نے خبردار کیا ہے کہ ہیکرز نے واٹس ایپ کے انکریپشن سسٹم میں دخل اندازی کے بغیر صارفین کے اکاؤنٹس ہیک کرنے کا ایک نیا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ اس طریقۂ کار کو ’’گھوسٹ پیئرنگ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس جعلسازی میں ہیکرز واٹس ایپ کے ایک فیچر کا غلط استعمال کرتے ہوئے صارفین کو دھوکے سے اپنے اکاؤنٹس ایسے ڈیوائسز کے ساتھ جوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں جو ہیکرز کے کنٹرول میں ہوتی ہیں۔ ایک بار اکاؤنٹ لنک ہو جانے کے بعد ہیکرز کو صارف کے پیغامات، تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔

سیکیورٹی محققین کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ پر قابو پانے کے بعد ہیکرز متاثرہ صارف کی کانٹیکٹ لسٹ میں موجود افراد کو بھی پیغامات بھیج سکتے ہیں، جس کے ذریعے مزید اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر معروف لنکس پر کلک کرنے، مشتبہ پیغامات کا جواب دینے اور واٹس ایپ کے لنکڈ ڈیوائسز سیکشن کو باقاعدگی سے چیک کرنے میں احتیاط برتیں تاکہ اس قسم کی سائبر جعلسازی سے محفوظ رہا جا سکے۔