LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ضمنی انتخاب: پنجاب کے دونوں حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کامیاب اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد

یوٹیوب میں اے آئی سرچ فیچر متعارف

Web Desk

21 May 2026

عالمی ٹیک کمپنی گوگل (Google) نے اپنی مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے ویڈیو شیئرنگ کے سب سے بڑے پلیٹ فارم یوٹیوب کے لیے ایک نیا اور جدید ترین اے آئی سرچ فیچر ’’Ask YouTube‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ اس انقلابی فیچر کی مدد سے اب صارفین کو اپنی مطلوبہ معلومات کے لیے طویل ویڈیوز دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

نئے فیچر کے تحت صارفین سرچ بار میں کسی بھی موضوع پر اپنے پیچیدہ سوالات بالکل اسی طرح تحریر کر سکیں گے جیسے کسی اے آئی چیٹ بوٹ (مثلاً جیمنائی یا چیٹ جی پی ٹی) سے گفتگو کی جاتی ہے۔ یوٹیوب کا یہ اے آئی سسٹم نہ صرف صارف کے سوال کے جواب میں متعلقہ ویڈیوز تجویز کرے گا بلکہ ان ویڈیوز کا نچوڑ (Text Summary) اور اضافی معلومات بھی تحریری شکل میں فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کو فالو اپ (مزید) سوالات پوچھنے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

اس فیچر کی سب سے نمایاں اور جادوئی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صارف کو پوری ویڈیو دیکھنے کے بجائے براہِ راست ویڈیو کے اُس مخصوص حصے (Timestamp) پر لے جائے گا جہاں اس کے سوال کا جواب موجود ہوگا۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف کسی طویل ٹریول وی لاگ یا ٹیک ریویو میں کسی خاص مقام، قیمت یا مفید ٹِپ کے بارے میں جاننا چاہے، تو اے آئی اسے پوری ویڈیو دیکھنے پر مجبور کرنے کے بجائے سیدھا اسی سیکنڈ پر پہنچا دے گا جہاں وہ معلومات شیئر کی گئی ہیں۔

گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) سندر پچائی نے کمپنی کی سالانہ ڈیولپر کانفرنس (Google I/O) کے دوران اس فیچر کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’Ask YouTube‘‘ ڈیجیٹل دنیا میں معلومات حاصل کرنے کے روایتی انداز کو مزید آسان، اسمارٹ اور مؤثر بنائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گوگل صارفین کو جدید ترین تجربہ فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام تر سروسز میں مسلسل اے آئی ٹیکنالوجی کو ضم کر رہا ہے۔

حکمتِ عملی کے تحت فی الحال یہ فیچر آزمائشی بنیادوں پر صرف امریکا میں یوٹیوب پریمیئم (YouTube Premium) سبسکرپشن استعمال کرنے والے 18 سال یا اس سے زائد عمر کے صارفین کے لیے لانچ کیا گیا ہے، تاہم کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ کامیاب ٹیسٹنگ کے بعد جلد ہی اسے پاکستان سمیت دیگر تمام ممالک کے عام صارفین کے لیے بھی پیش کر دیا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق، جو صارفین اس فیچر کے اہل ہیں، انہیں اپنے اکاؤنٹ سیٹنگز میں جا کر اسے فعال (Activate) کرنا ہوگا، جس کے بعد سرچ بار میں ’’Ask YouTube‘‘ کا نیا بٹن ظاہر ہو جائے گا، جہاں پہلے سے تیار شدہ سوالات کی تجاویز بھی موجود ہوں گی۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیچر یوٹیوب سرچ کے روایتی اور پرانے طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دے گا اور صارفین کا قیمتی وقت بچانے میں اہم ثابت ہوگا۔