LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کی پھر ایران امریکا تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت کے ساتھ جاری رہے گی: فیلڈ مارشل متحدہ عرب امارات سے 3,494 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، بیشتر جرائم یا غیر قانونی قیام کے باعث نکالے گئے؛ وفاقی وزیر پاکستان نے تیل و گیس کے 8 ایکسپلوریشن بلاکس حاصل کر لئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پرنس رحیم آغا خان کے اعزاز میں ناشتہ کی تقریب ؛ مرحوم پرنس کریم آغا خان چہارم کی خدمات پر یادگاری ڈاک ٹکٹ پیش محسن نقوی کی عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کی اسلام قبول کرنے والی خاتون عائشہ کو اپنی مرضی سے رہنے کی اجازت دنیا فلوٹیلا کارکنوں سے بدسلوکی کا نوٹس لے، محفوظ واپسی یقینی بنائے: پاکستان شمالی وزیرستان میں خارجی کمانڈر عمر 4 دہشت گردوں سمیت جہنم واصل وزیرِ اعظم کی ای سی سی ارکان کی تعداد میں اضافے کی منظوری میر واعظ مولوی محمد فاروق اور عبدالغنی لون کا آج یومِ شہادت پی ٹی آئی ارکان اسمبلی و رہنما 23 جولائی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم سلامتی کونسل ایران کیخلاف بلا اشتعال حملے روکنے میں ناکام رہی: ایران کی شدید تنقید وزیراعلیٰ مریم نواز کا ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کا اعادہ پاک چین سفارتی تعلقات 75 سال میں پائیدار دوستی کی شاندار مثال بن گئے: صدر، وزیراعظم

یوٹیوب میں اے آئی سرچ فیچر متعارف

Web Desk

21 May 2026

عالمی ٹیک کمپنی گوگل (Google) نے اپنی مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے ویڈیو شیئرنگ کے سب سے بڑے پلیٹ فارم یوٹیوب کے لیے ایک نیا اور جدید ترین اے آئی سرچ فیچر ’’Ask YouTube‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ اس انقلابی فیچر کی مدد سے اب صارفین کو اپنی مطلوبہ معلومات کے لیے طویل ویڈیوز دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

نئے فیچر کے تحت صارفین سرچ بار میں کسی بھی موضوع پر اپنے پیچیدہ سوالات بالکل اسی طرح تحریر کر سکیں گے جیسے کسی اے آئی چیٹ بوٹ (مثلاً جیمنائی یا چیٹ جی پی ٹی) سے گفتگو کی جاتی ہے۔ یوٹیوب کا یہ اے آئی سسٹم نہ صرف صارف کے سوال کے جواب میں متعلقہ ویڈیوز تجویز کرے گا بلکہ ان ویڈیوز کا نچوڑ (Text Summary) اور اضافی معلومات بھی تحریری شکل میں فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کو فالو اپ (مزید) سوالات پوچھنے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

اس فیچر کی سب سے نمایاں اور جادوئی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صارف کو پوری ویڈیو دیکھنے کے بجائے براہِ راست ویڈیو کے اُس مخصوص حصے (Timestamp) پر لے جائے گا جہاں اس کے سوال کا جواب موجود ہوگا۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف کسی طویل ٹریول وی لاگ یا ٹیک ریویو میں کسی خاص مقام، قیمت یا مفید ٹِپ کے بارے میں جاننا چاہے، تو اے آئی اسے پوری ویڈیو دیکھنے پر مجبور کرنے کے بجائے سیدھا اسی سیکنڈ پر پہنچا دے گا جہاں وہ معلومات شیئر کی گئی ہیں۔

گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) سندر پچائی نے کمپنی کی سالانہ ڈیولپر کانفرنس (Google I/O) کے دوران اس فیچر کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’Ask YouTube‘‘ ڈیجیٹل دنیا میں معلومات حاصل کرنے کے روایتی انداز کو مزید آسان، اسمارٹ اور مؤثر بنائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گوگل صارفین کو جدید ترین تجربہ فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام تر سروسز میں مسلسل اے آئی ٹیکنالوجی کو ضم کر رہا ہے۔

حکمتِ عملی کے تحت فی الحال یہ فیچر آزمائشی بنیادوں پر صرف امریکا میں یوٹیوب پریمیئم (YouTube Premium) سبسکرپشن استعمال کرنے والے 18 سال یا اس سے زائد عمر کے صارفین کے لیے لانچ کیا گیا ہے، تاہم کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ کامیاب ٹیسٹنگ کے بعد جلد ہی اسے پاکستان سمیت دیگر تمام ممالک کے عام صارفین کے لیے بھی پیش کر دیا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق، جو صارفین اس فیچر کے اہل ہیں، انہیں اپنے اکاؤنٹ سیٹنگز میں جا کر اسے فعال (Activate) کرنا ہوگا، جس کے بعد سرچ بار میں ’’Ask YouTube‘‘ کا نیا بٹن ظاہر ہو جائے گا، جہاں پہلے سے تیار شدہ سوالات کی تجاویز بھی موجود ہوں گی۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیچر یوٹیوب سرچ کے روایتی اور پرانے طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دے گا اور صارفین کا قیمتی وقت بچانے میں اہم ثابت ہوگا۔