LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد ایران پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا: ایرانی سفیر اسحاق ڈار سے جاپانی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مفاہمت کا خیر مقدم کراچی: اسٹیٹ بینک نے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع کر دی پنجاب کا 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش ہوگا، ترقیاتی بجٹ نصف کر دیا گیا امن کا سورج طلوع، جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی میزبانی پاکستان کرے گا: وزیراعظم

یوٹیوب میں اے آئی سرچ فیچر متعارف

Web Desk

21 May 2026

عالمی ٹیک کمپنی گوگل (Google) نے اپنی مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے ویڈیو شیئرنگ کے سب سے بڑے پلیٹ فارم یوٹیوب کے لیے ایک نیا اور جدید ترین اے آئی سرچ فیچر ’’Ask YouTube‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ اس انقلابی فیچر کی مدد سے اب صارفین کو اپنی مطلوبہ معلومات کے لیے طویل ویڈیوز دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

نئے فیچر کے تحت صارفین سرچ بار میں کسی بھی موضوع پر اپنے پیچیدہ سوالات بالکل اسی طرح تحریر کر سکیں گے جیسے کسی اے آئی چیٹ بوٹ (مثلاً جیمنائی یا چیٹ جی پی ٹی) سے گفتگو کی جاتی ہے۔ یوٹیوب کا یہ اے آئی سسٹم نہ صرف صارف کے سوال کے جواب میں متعلقہ ویڈیوز تجویز کرے گا بلکہ ان ویڈیوز کا نچوڑ (Text Summary) اور اضافی معلومات بھی تحریری شکل میں فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کو فالو اپ (مزید) سوالات پوچھنے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

اس فیچر کی سب سے نمایاں اور جادوئی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صارف کو پوری ویڈیو دیکھنے کے بجائے براہِ راست ویڈیو کے اُس مخصوص حصے (Timestamp) پر لے جائے گا جہاں اس کے سوال کا جواب موجود ہوگا۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف کسی طویل ٹریول وی لاگ یا ٹیک ریویو میں کسی خاص مقام، قیمت یا مفید ٹِپ کے بارے میں جاننا چاہے، تو اے آئی اسے پوری ویڈیو دیکھنے پر مجبور کرنے کے بجائے سیدھا اسی سیکنڈ پر پہنچا دے گا جہاں وہ معلومات شیئر کی گئی ہیں۔

گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) سندر پچائی نے کمپنی کی سالانہ ڈیولپر کانفرنس (Google I/O) کے دوران اس فیچر کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’Ask YouTube‘‘ ڈیجیٹل دنیا میں معلومات حاصل کرنے کے روایتی انداز کو مزید آسان، اسمارٹ اور مؤثر بنائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گوگل صارفین کو جدید ترین تجربہ فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام تر سروسز میں مسلسل اے آئی ٹیکنالوجی کو ضم کر رہا ہے۔

حکمتِ عملی کے تحت فی الحال یہ فیچر آزمائشی بنیادوں پر صرف امریکا میں یوٹیوب پریمیئم (YouTube Premium) سبسکرپشن استعمال کرنے والے 18 سال یا اس سے زائد عمر کے صارفین کے لیے لانچ کیا گیا ہے، تاہم کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ کامیاب ٹیسٹنگ کے بعد جلد ہی اسے پاکستان سمیت دیگر تمام ممالک کے عام صارفین کے لیے بھی پیش کر دیا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق، جو صارفین اس فیچر کے اہل ہیں، انہیں اپنے اکاؤنٹ سیٹنگز میں جا کر اسے فعال (Activate) کرنا ہوگا، جس کے بعد سرچ بار میں ’’Ask YouTube‘‘ کا نیا بٹن ظاہر ہو جائے گا، جہاں پہلے سے تیار شدہ سوالات کی تجاویز بھی موجود ہوں گی۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیچر یوٹیوب سرچ کے روایتی اور پرانے طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دے گا اور صارفین کا قیمتی وقت بچانے میں اہم ثابت ہوگا۔