ایکس پر ماہانہ فیس ادا نہ کرنیوالے صارفین اب روزانہ صرف 50 پوسٹس کرسکیں گے
Web Desk
20 May 2026
اگر آپ مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر روزانہ کافی زیادہ پوسٹس اور ریپلائیز کرنے کے عادی ہیں اور اب تک ماہانہ فیس ادا کر کے بلیو ٹِک حاصل نہیں کیا، تو آپ کے لیے ایک بری خبر ہے۔ ایکس انتظامیہ نے مفت سروس استعمال کرنے والے صارفین پر ایک نئی اور انتہائی سخت پابندی کا اطلاق شروع کر دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنے والے سبسکرائبر بننے پر مجبور کرنا ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ایکس نے انتہائی خاموشی سے ان تمام صارفین پر روزانہ پوسٹس کرنے کی حد مقرر کر دی ہے جن کے اکاؤنٹس تصدیق شدہ (Verified) نہیں ہیں اور جن کے پاس بلیو ٹِک موجود نہیں ہے۔ ایکس ہیلپ سینٹر پیج پر اپ ڈیٹ کی گئی معلومات کے مطابق، اب مفت صارفین روزانہ صرف 50 پوسٹس اور 200 ریپلائیز ہی کر سکیں گے۔ اگر کوئی بھی غیر تصدیق شدہ صارف دن بھر میں 50 سے زائد پوسٹس کرنے کی کوشش کرے گا، تو اس کے اکاؤنٹ پر ایک ایرر میسج (Error Message) ظاہر ہو جائے گا اور وہ مزید پوسٹ نہیں کر پائے گا۔
واضح رہے کہ اس نئی پابندی سے قبل مفت صارفین کو روزانہ 2400 پوسٹس کرنے کی وسیع اجازت حاصل تھی، جس میں اب غیر معمولی کمی کر دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایکس کی جانب سے اس اچانک فیصلے کا ایک مقصد پلیٹ فارم پر اسپام پوسٹس اور بوٹس (Bots) کی سرگرمیوں کو روکنا ہو سکتا ہے، تاہم اس کا سب سے بڑا اور اصل مقصد یہی نظر آتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ‘ایکس پریمیم’ کی ماہانہ فیس ادا کرنے پر راغب کیا جائے تاکہ کمپنی کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026