LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32روپے12پیسے فی لٹرکمی کی منظوری دے دی ایران کا آبنائے ہرمزمکمل طورپر کھولنے کا اعلان ، وزیر خارجہ عراقچی کابڑا اعلان

شیخ حسینہ واجد کے بعد بنگلادیش کی قیادت کس کے ہاتھ میں آئے گی؟ فیصلہ 12 فروری ہوگا

Web Desk

1 February 2026

بنگلادیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور کے اختتام کے بعد نئے حکمران کے انتخاب کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں 350 رکنی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر براہِ راست ووٹنگ ہوگی۔ خواتین کے لیے مخصوص 50 نشستیں ووٹوں کے تناسب کے حساب سے مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔

پارلیمانی ارکان کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کم از کم 151 ارکان کی حمایت لازمی ہوگی۔ یہ بات یقینی بنائے گی کہ وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب رہنما کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہو۔

اس وقت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سب سے مضبوط جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کے 288 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ بی این پی کے ساتھ دیگر 9 جماعتیں بھی انتخابی اتحاد میں شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی بنگلادیش کے 224 امیدوار میدان میں ہیں، جو جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم ہم خیال اتحاد کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس اتحاد میں بنگلادیش خلافت مجلس کے 34 امیدوار اور نیشنل سٹیزن پارٹی کے 32 امیدوار بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کو پہلے ہی کالعدم قرار دیا جاچکا ہے، جس کے بعد ملک کے عوام کی توجہ وزارت عظمیٰ کے نئے امیدوار کی جانب مرکوز ہوگئی ہے۔ عوامی رائے اور ووٹوں کے نتیجے سے ہی یہ واضح ہوگا کہ بنگلادیش کے عوام کس جماعت یا اتحاد کو اپنا قیادت منتخب کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 12 فروری کے انتخابات نہ صرف ملک کی آئندہ حکومت کا تعین کریں گے بلکہ سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بھی بنیں گے۔ انتخابی عمل اور پارلیمانی ارکان کی تعداد کے لحاظ سے یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وزیراعظم کے لیے مطلوبہ 151 ارکان کی حمایت کے بغیر کوئی بھی امیدوار وزارت عظمیٰ کا عہدہ حاصل نہیں کر سکتا۔