LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم

شیخ حسینہ واجد کے بعد بنگلادیش کی قیادت کس کے ہاتھ میں آئے گی؟ فیصلہ 12 فروری ہوگا

Web Desk

1 February 2026

بنگلادیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور کے اختتام کے بعد نئے حکمران کے انتخاب کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں 350 رکنی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر براہِ راست ووٹنگ ہوگی۔ خواتین کے لیے مخصوص 50 نشستیں ووٹوں کے تناسب کے حساب سے مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔

پارلیمانی ارکان کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کم از کم 151 ارکان کی حمایت لازمی ہوگی۔ یہ بات یقینی بنائے گی کہ وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب رہنما کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہو۔

اس وقت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سب سے مضبوط جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کے 288 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ بی این پی کے ساتھ دیگر 9 جماعتیں بھی انتخابی اتحاد میں شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی بنگلادیش کے 224 امیدوار میدان میں ہیں، جو جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم ہم خیال اتحاد کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس اتحاد میں بنگلادیش خلافت مجلس کے 34 امیدوار اور نیشنل سٹیزن پارٹی کے 32 امیدوار بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کو پہلے ہی کالعدم قرار دیا جاچکا ہے، جس کے بعد ملک کے عوام کی توجہ وزارت عظمیٰ کے نئے امیدوار کی جانب مرکوز ہوگئی ہے۔ عوامی رائے اور ووٹوں کے نتیجے سے ہی یہ واضح ہوگا کہ بنگلادیش کے عوام کس جماعت یا اتحاد کو اپنا قیادت منتخب کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 12 فروری کے انتخابات نہ صرف ملک کی آئندہ حکومت کا تعین کریں گے بلکہ سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بھی بنیں گے۔ انتخابی عمل اور پارلیمانی ارکان کی تعداد کے لحاظ سے یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وزیراعظم کے لیے مطلوبہ 151 ارکان کی حمایت کے بغیر کوئی بھی امیدوار وزارت عظمیٰ کا عہدہ حاصل نہیں کر سکتا۔