LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو پر بڑا ڈرون حملہ کوئی ریاست دوسری ریاست کیلئے خطرہ نہیں بن سکتی: قطری وزیراعظم شمالی کوریا کا تین گھنٹوں میں 2 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال اٹھارہویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے 4 آزاد ریاستیں بن گئیں: مصطفیٰ کمال الخلیل میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینیوں پر حملہ، گاڑی نذر آتش جاسم البدیوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت زیلنسکی اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ، نیویارک میں ملاقات پر اتفاق آبنائے ہرمز، باب المندب بند ہونے سے تیل مہنگا ہوا، مہنگائی سے پوری دنیا پریشان ہے: رانا ثناء اللہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں، عوام کی تکلیف کا احساس ہے: علی پرویز ملک 18ویں ترمیم کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں :خالد مقبول صدیقی سکیورٹی پہلے، ملک محفوظ ہوگا تو ترقی بھی ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان پی ٹی آئی ایم پی اے کی فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی، مقدمہ درج: ذرائع

شیخ حسینہ واجد کے بعد بنگلادیش کی قیادت کس کے ہاتھ میں آئے گی؟ فیصلہ 12 فروری ہوگا

Web Desk

1 February 2026

بنگلادیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور کے اختتام کے بعد نئے حکمران کے انتخاب کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں 350 رکنی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر براہِ راست ووٹنگ ہوگی۔ خواتین کے لیے مخصوص 50 نشستیں ووٹوں کے تناسب کے حساب سے مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔

پارلیمانی ارکان کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کم از کم 151 ارکان کی حمایت لازمی ہوگی۔ یہ بات یقینی بنائے گی کہ وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب رہنما کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہو۔

اس وقت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سب سے مضبوط جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کے 288 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ بی این پی کے ساتھ دیگر 9 جماعتیں بھی انتخابی اتحاد میں شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی بنگلادیش کے 224 امیدوار میدان میں ہیں، جو جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم ہم خیال اتحاد کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس اتحاد میں بنگلادیش خلافت مجلس کے 34 امیدوار اور نیشنل سٹیزن پارٹی کے 32 امیدوار بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کو پہلے ہی کالعدم قرار دیا جاچکا ہے، جس کے بعد ملک کے عوام کی توجہ وزارت عظمیٰ کے نئے امیدوار کی جانب مرکوز ہوگئی ہے۔ عوامی رائے اور ووٹوں کے نتیجے سے ہی یہ واضح ہوگا کہ بنگلادیش کے عوام کس جماعت یا اتحاد کو اپنا قیادت منتخب کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 12 فروری کے انتخابات نہ صرف ملک کی آئندہ حکومت کا تعین کریں گے بلکہ سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بھی بنیں گے۔ انتخابی عمل اور پارلیمانی ارکان کی تعداد کے لحاظ سے یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وزیراعظم کے لیے مطلوبہ 151 ارکان کی حمایت کے بغیر کوئی بھی امیدوار وزارت عظمیٰ کا عہدہ حاصل نہیں کر سکتا۔