LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کو مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے: ایرانی صدر ٹرمپ کا نڈال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر نہ کرنے کا اعلان زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ سعودی عرب میں یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کا سربراہی اجلاس ملتوی الیکشن کمیشن کا پنجاب اور کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات فوری کرانے کا فیصلہ پاکستان اور ملائیشیا کی افواج کی دو ہفتوں پر مشتمل مشترکہ فوجی مشق اختتام پذیر انصاف کی فراہمی کیلئے عدلیہ اور وکلاء کا تعاون ناگزیر ہے: چیف جسٹس آزاد کشمیر کابل میں چائے پینے کے بعد دہشت گردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی تھی: اسحاق ڈار مدینہ منورہ کی جانب داغا گیا کروز میزائل سعودی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کردیا ہماری پوری کوشش تھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ نہ ہو: محسن نقوی احد چیمہ کی ایم ڈی آپریشنز ورلڈ بینک سے ملاقات، پاکستان کے ترقیاتی اہداف پر اہم تبادلہ خیال روسی وزیرِ داخلہ پاکستان کا 4 روزہ دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ایمان مزاری اور عبدالہادی چٹھہ کے جیل ٹرائل کی منظوری پشاور دیر کالونی اسکول حادثہ: ایل آر ایچ اسپتال میں 33 افراد جاں بحق اور 20 زخمی لائے گئے، ترجمان کے پی ایمرجنسی مارشل لاء سے بدتر، تمام طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ ہو تو غیر مشروط مذاکرات کو تیار ہیں: محمود خان اچکزئی

آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی نافذ، کمپنیوں پر بھاری جرمانے کا اعلان

Web Desk

9 December 2025

آسٹریلیا: ملک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل آج سے نافذ ہوگیا، جس کے بعد آسٹریلیا یہ پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نئے قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر بچے انسٹاگرام، فیس بک، ایکس، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکیں گے۔

آسٹریلوی حکام نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر والدین یا کم عمر بچوں پر کوئی سزا نہیں ہوگی، تاہم سوشل میڈیا کمپنیوں کو 32 ملین امریکی ڈالر تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پابندی کا مقصد کم عمر صارفین کو بیہودہ مواد، آن لائن استحصال اور سائبر کرائم سے محفوظ رکھنا ہے۔
تاہم ناقدین کے مطابق اس اقدام سے نوجوان انٹرنیٹ کے غیرمحفوظ گوشوں کی طرف جا سکتے ہیں، جہاں نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں۔

آسٹریلیا میں نوجوانوں کا ردعمل بھی تقسیم ہے؛ کچھ نے اس پابندی کو توہین آمیز قرار دیا، جبکہ متعدد کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے بغیر زندگی کے عادی ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ یورپی ممالک بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت قوانین پر غور کر رہے ہیں۔