LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی نافذ، کمپنیوں پر بھاری جرمانے کا اعلان

Web Desk

9 December 2025

آسٹریلیا: ملک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل آج سے نافذ ہوگیا، جس کے بعد آسٹریلیا یہ پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نئے قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر بچے انسٹاگرام، فیس بک، ایکس، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکیں گے۔

آسٹریلوی حکام نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر والدین یا کم عمر بچوں پر کوئی سزا نہیں ہوگی، تاہم سوشل میڈیا کمپنیوں کو 32 ملین امریکی ڈالر تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پابندی کا مقصد کم عمر صارفین کو بیہودہ مواد، آن لائن استحصال اور سائبر کرائم سے محفوظ رکھنا ہے۔
تاہم ناقدین کے مطابق اس اقدام سے نوجوان انٹرنیٹ کے غیرمحفوظ گوشوں کی طرف جا سکتے ہیں، جہاں نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں۔

آسٹریلیا میں نوجوانوں کا ردعمل بھی تقسیم ہے؛ کچھ نے اس پابندی کو توہین آمیز قرار دیا، جبکہ متعدد کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے بغیر زندگی کے عادی ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ یورپی ممالک بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت قوانین پر غور کر رہے ہیں۔