LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمان سے جاری مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے: ایران کی تصدیق ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر تیار ہوگیا: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ایران سے مذاکرات آج دوپہر سے شروع ہوں گے، امریکی صدر یادداشت پر دستخط شوریٰ کونسل کی اجتماعی دانشمندی کا نتیجہ ہے، ایرانی صدر برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین کی ایران کو جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی قومی سلامتی کے دفاع کیلئے مکمل تیاری موجود ہے، ماجد ابن رضا سعودی، ایرانی، اردنی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، قیامِ امن کے عزم کا اعادہ عمان سے مذاکرات: ایران نے موجودہ جنوبی بحری راستہ ناقابل قبول قرار دیدیا یونان میں جنگلاتی آگ بجھاتے 2 ہیلی کاپٹر ٹکرا گئے، عملے کے 2 افراد ہلاک راولپنڈی سے اڑھائی سالہ بچہ اغوا کر لیا گیا ملک کے سیاسی و معاشی بحرانوں کا حل صرف شفاف انتخابات ہیں: اسد قیصر آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: ن لیگ 10 اور پی پی 2 نشست پر کامیاب سوات میں دہشتگردی ناقابل برداشت، حکومت شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے: حافظ نعیم الرحمان پیپلزپارٹی جمہوری رویہ اپنائے، دھاندلی کا شور بے بنیاد ہے: احسن اقبال سینٹکام کا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی میں 35 جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ

آزاد کشمیر میں صدر اور وزیراعظم پیپلز پارٹی کا، پھر دھاندلی کیسے ہوگئی؟ امیر مقام

Web Desk

2 August 2026

وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما انجینئر امیر مقام نے پیپلز پارٹی کی جانب سے عائد کیے جانے والے دھاندلی کے الزامات کا آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کرارا جواب دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب آزاد کشمیر میں صدر اور وزیراعظم دونوں ہی پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، تو ایسے میں الیکشن میں دھاندلی کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو بلاجواز الزام تراشی اور “بلیم گیم” کے بجائے عوام کے پاس جا کر یہ پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے انہیں ووٹ کیوں نہیں دیا، اور عوامی فیصلے کو کھلے دل اور شائستگی سے تسلیم کرنا چاہیے۔

امیر مقام نے مزید کہا کہ میرپور ڈویژن کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کی شاندار کارکردگی اور عوامی خدمت پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اپنا ووٹ دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے بغیر کسی ثبوت اور شواہد کے محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، جن سے حاصل کچھ نہیں ہونے والا۔ واضح رہے کہ یہ سیاسی نوک جھونک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد جموں و کشمیر کے دوسرے مرحلے کے تحت مظفر آباد ڈویژن کی 9 اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر انتخابی عمل جاری ہے۔