LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل اسلام آباد میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی یورپی ممالک بھاری مقدار میں ڈیزل جاری کرنے پر تیار ہوگئے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ دوران پرواز کپتان پر حملہ کرنے والا شریک پائلٹ انتہا پسند تھا: امریکی اخبارکا دعویٰ محسن رضائی نے ٹرمپ کے ایران کیخلاف جنگ میں فتح کے دعوؤں کو مسترد کر دیا پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر

علیمہ خان کا مقدمہ سیاسی انتقام ہے، بریت کی درخواست دائر: فیصل ملک

Web Desk

22 December 2025

علیمہ خان نے اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کی۔ وکیل فیصل ملک کا کہنا تھا کہ 26 نومبر کے مقدمے میں علیمہ خان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد موجود نہیں، اسی بنیاد پر آج عدالت میں بریت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ ان کے مطابق درخواست کے باوجود گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جو سیاسی انتقامی کارروائی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ علیمہ خان کا کیس تیزی سے چلانا چاہتا ہے اور عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے۔

علیمہ خان نے گفتگو میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے گزشتہ سال 22 نومبر کو پرامن احتجاج کی کال دی تھی اور ان پر صرف یہ الزام ہے کہ انہوں نے بانی کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں کو جھوٹی گواہی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور جھوٹی گواہی دینے والوں کو بھی سزا ملنی چاہیے۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انصاف کا نظام کمزور ہو چکا ہے، اگرچہ عدلیہ میں اچھے ججز موجود ہیں لیکن ان کی بات نہیں سنی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس بوگس ہے اور معمولی الزامات پر سخت سزائیں دی گئیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ رول آف لا کی بات کی اور آج بھی اپنے مقدمات کا سامنا کرنے کے مؤقف پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ملک سے جانے کی آفرز بھی ہوئیں، مگر انہوں نے انکار کیا۔ علیمہ خان نے مزید کہا کہ اے ٹی سی کے ججز بھی کسی منصوبے کے تحت چلتے نظر آتے ہیں، جبکہ میڈیا کے نمائندوں کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی 90 فیصد عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور مذاکرات کی بات کرنے والے بانی کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔