LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول 75 پیسے فی لٹر سستا، ڈیزل 2 روپے 24 پیسے مہنگا ہوگیا پاکستان اور مصر کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ، فلسطینیوں کی حمایت پر اتفاق ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر نئی پابندیاں، 8 تیل بردار جہاز اور 10 ادارے نشانے پر کویتی وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد: فیلڈ مارشل سے ملاقات، دفاعی تعاون پر اتفاق ن لیگ خیراتی مینڈیٹ کی حکومت ہے، کشمیر میں ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: شرجیل انعام میمن کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بند کی جائے: 27 جولائی کے الیکشن فراڈ تھے، بیرسٹر گوہر امریکی مفادات پر حملہ برداشت نہیں، ٹرمپ کا ایران کو سخت جواب دینے کا اعلان حکومت بجلی بلوں، پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر مسلسل بوجھ ڈال رہی ہے: حافظ نعیم الرحمان بلاول بھٹو زرداری کا آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 32 دہشت گرد ہلاک آزاد کشمیر الیکشن میں تاریخی اور بھیانک دھاندلی ہوئی, سابق وزیراعظم فلسطین پر اسرائیلی قبضے تک مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں: پاکستان واشنگٹن میں نیتن یاہو کیخلاف احتجاج، اسرائیلی وزیراعظم کی گرفتاری کا مطالبہ شرپسند عناصر کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی: ترجمان آزاد کشمیر پولیس قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی نشستیں بڑھانے کیلئے درخواست دائر

علیمہ خان کا مقدمہ سیاسی انتقام ہے، بریت کی درخواست دائر: فیصل ملک

Web Desk

22 December 2025

علیمہ خان نے اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کی۔ وکیل فیصل ملک کا کہنا تھا کہ 26 نومبر کے مقدمے میں علیمہ خان کے خلاف کوئی ٹھوس مواد موجود نہیں، اسی بنیاد پر آج عدالت میں بریت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ ان کے مطابق درخواست کے باوجود گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جو سیاسی انتقامی کارروائی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ علیمہ خان کا کیس تیزی سے چلانا چاہتا ہے اور عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے۔

علیمہ خان نے گفتگو میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے گزشتہ سال 22 نومبر کو پرامن احتجاج کی کال دی تھی اور ان پر صرف یہ الزام ہے کہ انہوں نے بانی کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں کو جھوٹی گواہی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور جھوٹی گواہی دینے والوں کو بھی سزا ملنی چاہیے۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انصاف کا نظام کمزور ہو چکا ہے، اگرچہ عدلیہ میں اچھے ججز موجود ہیں لیکن ان کی بات نہیں سنی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس بوگس ہے اور معمولی الزامات پر سخت سزائیں دی گئیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ رول آف لا کی بات کی اور آج بھی اپنے مقدمات کا سامنا کرنے کے مؤقف پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ملک سے جانے کی آفرز بھی ہوئیں، مگر انہوں نے انکار کیا۔ علیمہ خان نے مزید کہا کہ اے ٹی سی کے ججز بھی کسی منصوبے کے تحت چلتے نظر آتے ہیں، جبکہ میڈیا کے نمائندوں کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی 90 فیصد عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور مذاکرات کی بات کرنے والے بانی کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔