LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

امریکہ: اے آئی الٹراساؤنڈ آلے کو معائنے کیلئے استعمال کی منظوری دے دی

Web Desk

1 April 2026

نیویارک: امریکی ریگولیٹری ادارے (FDA) نے ‘بٹر فلائی نیٹ ورک’ کے تیار کردہ جدید ترین اے آئی الٹراساؤنڈ ٹول کو مریضوں کے معائنے کے لیے کلیئرنس دے دی ہے۔ یہ آلہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو روایتی بھاری بھرکم مشینوں کے بجائے ایک واحد سلیکون چپ پر مشتمل ہے، جس سے پورے جسم کی اسکیننگ ممکن ہے۔

اس آلے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا خودکار نظام ہے جو محض دو منٹ کے اندر حمل کی مدت (Gestational Age) کا درست تخمینہ لگا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی خاص طبی مہارت یا طویل تربیت کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ اے آئی ٹول خود ہی اسکرین پر ڈاکٹر یا ہیلتھ ورکر کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس ماڈل کو 21 ملین سے زائد الٹراساؤنڈ تصاویر پر ٹرین کیا گیا ہے تاکہ 16 سے 37 ہفتوں کے دوران حمل کے نتائج میں سو فیصد درستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی افریقی ممالک ملاوی اور یوگنڈا میں پہلے ہی کامیاب تجربات کے بعد اب امریکی مارکیٹ میں متعارف کرائی جا رہی ہے۔ ایف ڈی اے کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا طبی آلات میں استعمال نہ صرف علاج کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ دیہی علاقوں اور ایمرجنسی وارڈز میں فوری فیصلے کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔