LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ کے عوام نے فسطائیت کا جس طرح مقابلہ کیا، انہیں سلام پیش کرتا ہوں: سہیل آفریدی ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ایران کی جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کا دھاوا، 11 افراد گرفتاری کے بعد رہا امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا جنگ کے ابتدائی حملوں میں تباہ ہونے والے ایرانی سکول کو یادگار بنا دیا گیا بھارت کے یکطرفہ اقدامات متنازع جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے: پاکستان

امریکہ: اے آئی الٹراساؤنڈ آلے کو معائنے کیلئے استعمال کی منظوری دے دی

Web Desk

1 April 2026

نیویارک: امریکی ریگولیٹری ادارے (FDA) نے ‘بٹر فلائی نیٹ ورک’ کے تیار کردہ جدید ترین اے آئی الٹراساؤنڈ ٹول کو مریضوں کے معائنے کے لیے کلیئرنس دے دی ہے۔ یہ آلہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو روایتی بھاری بھرکم مشینوں کے بجائے ایک واحد سلیکون چپ پر مشتمل ہے، جس سے پورے جسم کی اسکیننگ ممکن ہے۔

اس آلے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا خودکار نظام ہے جو محض دو منٹ کے اندر حمل کی مدت (Gestational Age) کا درست تخمینہ لگا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی خاص طبی مہارت یا طویل تربیت کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ اے آئی ٹول خود ہی اسکرین پر ڈاکٹر یا ہیلتھ ورکر کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس ماڈل کو 21 ملین سے زائد الٹراساؤنڈ تصاویر پر ٹرین کیا گیا ہے تاکہ 16 سے 37 ہفتوں کے دوران حمل کے نتائج میں سو فیصد درستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی افریقی ممالک ملاوی اور یوگنڈا میں پہلے ہی کامیاب تجربات کے بعد اب امریکی مارکیٹ میں متعارف کرائی جا رہی ہے۔ ایف ڈی اے کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا طبی آلات میں استعمال نہ صرف علاج کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ دیہی علاقوں اور ایمرجنسی وارڈز میں فوری فیصلے کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔