LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرے گا: دفتر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کا عمل آج باضابطہ طور پر شروع ہوگا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو کی آج 73 ویں سالگرہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے میناب کے مظلوم بچوں اور شہدا کو اپنے طرزِ عمل کا گواہ سمجھتے ہیں، باقر قالیباف اسحاق ڈار مصر پہنچ گئے، علاقائی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے امریکا ایران مذاکرات کل شروع ہونے کا امکان، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، امریکا سے معاہدے کی صورتحال پر گفتگو گھروں پر ٹاور لگانے والا بل جاہلانہ اور غاضبانہ ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام پر دستخط رانا ثنااللہ نے وزیراعظم کی تبدیلی بارے خبریں بے بنیاد قرار دے دیں ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی:ٹرمپ بھارت کی آزاد کشمیر میں امن تباہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی: خواجہ آصف

امریکہ: اے آئی الٹراساؤنڈ آلے کو معائنے کیلئے استعمال کی منظوری دے دی

Web Desk

1 April 2026

نیویارک: امریکی ریگولیٹری ادارے (FDA) نے ‘بٹر فلائی نیٹ ورک’ کے تیار کردہ جدید ترین اے آئی الٹراساؤنڈ ٹول کو مریضوں کے معائنے کے لیے کلیئرنس دے دی ہے۔ یہ آلہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو روایتی بھاری بھرکم مشینوں کے بجائے ایک واحد سلیکون چپ پر مشتمل ہے، جس سے پورے جسم کی اسکیننگ ممکن ہے۔

اس آلے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا خودکار نظام ہے جو محض دو منٹ کے اندر حمل کی مدت (Gestational Age) کا درست تخمینہ لگا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی خاص طبی مہارت یا طویل تربیت کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ اے آئی ٹول خود ہی اسکرین پر ڈاکٹر یا ہیلتھ ورکر کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس ماڈل کو 21 ملین سے زائد الٹراساؤنڈ تصاویر پر ٹرین کیا گیا ہے تاکہ 16 سے 37 ہفتوں کے دوران حمل کے نتائج میں سو فیصد درستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی افریقی ممالک ملاوی اور یوگنڈا میں پہلے ہی کامیاب تجربات کے بعد اب امریکی مارکیٹ میں متعارف کرائی جا رہی ہے۔ ایف ڈی اے کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا طبی آلات میں استعمال نہ صرف علاج کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ دیہی علاقوں اور ایمرجنسی وارڈز میں فوری فیصلے کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔