LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافہ، سیلاب، کئی دیہات زیر آب، زمینی رابطہ منقطع امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ایرانی دعویٰ مسترد کر دیا بیلاروس کے وفد کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چیف آف نیول سٹاف سے ملاقات شہدا پر سیاست نا قابل قبول، سیاست کو دہشتگردی سے نہ جوڑا جائے: سرفراز بگٹی کشمیری عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، تحریک دنیا بھر میں پھیل رہی ہے: مولانا فضل الرحمان امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟ ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

کانگو میں ایبولا سے 65 افراد ہلاک، 246 متاثر، سرحد پار پھیلنے کا خطرہ

Web Desk

16 May 2026

افریقہ کی صحتِ عامہ کی ایجنسی (Africa CDC) نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی ایک نئی اور خطرناک وبا پھیلنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ اس وائرس کے پھیلاؤ نے خطے میں شدید ہیلتھ ایمرجنسی کی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات پڑوسی ممالک تک پہنچنے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔طبی حکام کے مطابق، کانگو کے صوبے ‘ایتوری’ میں اب تک ایبولا کے باعث 65 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 246 مشتبہ کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ یہ وبا اس وقت مشرقی کانگو کے دو اہم ترین طبی علاقوں، مونگوالو اور روامپارا ہیلتھ زونز میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ طبی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت کے اہلکار اس وقت لیبارٹریز میں اس بات کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس حالیہ وبا میں ‘ایبولا زائر’ (Ebola Zaire) کے اثرات شامل ہیں یا نہیں۔ واضح رہے کہ ‘زائر’ اس وائرس کا سب سے مہلک اور خطرناک ترین ورژن مانا جاتا ہے جس میں شرحِ اموات بہت زیادہ ہوتی ہے۔ متاثرہ علاقہ یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحدوں کے بالکل قریب واقع ہے، جس کی وجہ سے خطے کے دیگر ممالک کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے:

  • کانگو کے ہمسایہ ملک یوگنڈا نے بھی اپنے ہاں ایبولا وائرس سے ایک موت کی تصدیق کر دی ہے۔

  • حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر سرحدوں پر سخت طبی سکریننگ نہ کی گئی تو یہ وبا انتہائی تیزی سے یوگنڈا اور جنوبی سوڈان میں داخل ہو کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

بین الاقوامی طبی تنظیموں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ ویکسینیشن اور قرنطینہ (Quarantine) کے ذریعے وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔