LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب: مسئلۂ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور UN قراردادوں کے مطابق ناگزیر ہے سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان

کانگو میں ایبولا سے 65 افراد ہلاک، 246 متاثر، سرحد پار پھیلنے کا خطرہ

Web Desk

16 May 2026

افریقہ کی صحتِ عامہ کی ایجنسی (Africa CDC) نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی ایک نئی اور خطرناک وبا پھیلنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ اس وائرس کے پھیلاؤ نے خطے میں شدید ہیلتھ ایمرجنسی کی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات پڑوسی ممالک تک پہنچنے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔طبی حکام کے مطابق، کانگو کے صوبے ‘ایتوری’ میں اب تک ایبولا کے باعث 65 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 246 مشتبہ کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ یہ وبا اس وقت مشرقی کانگو کے دو اہم ترین طبی علاقوں، مونگوالو اور روامپارا ہیلتھ زونز میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ طبی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت کے اہلکار اس وقت لیبارٹریز میں اس بات کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس حالیہ وبا میں ‘ایبولا زائر’ (Ebola Zaire) کے اثرات شامل ہیں یا نہیں۔ واضح رہے کہ ‘زائر’ اس وائرس کا سب سے مہلک اور خطرناک ترین ورژن مانا جاتا ہے جس میں شرحِ اموات بہت زیادہ ہوتی ہے۔ متاثرہ علاقہ یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحدوں کے بالکل قریب واقع ہے، جس کی وجہ سے خطے کے دیگر ممالک کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے:

  • کانگو کے ہمسایہ ملک یوگنڈا نے بھی اپنے ہاں ایبولا وائرس سے ایک موت کی تصدیق کر دی ہے۔

  • حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر سرحدوں پر سخت طبی سکریننگ نہ کی گئی تو یہ وبا انتہائی تیزی سے یوگنڈا اور جنوبی سوڈان میں داخل ہو کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

بین الاقوامی طبی تنظیموں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ ویکسینیشن اور قرنطینہ (Quarantine) کے ذریعے وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔