LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی

کانگو میں ایبولا سے 65 افراد ہلاک، 246 متاثر، سرحد پار پھیلنے کا خطرہ

Web Desk

16 May 2026

افریقہ کی صحتِ عامہ کی ایجنسی (Africa CDC) نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی ایک نئی اور خطرناک وبا پھیلنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ اس وائرس کے پھیلاؤ نے خطے میں شدید ہیلتھ ایمرجنسی کی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات پڑوسی ممالک تک پہنچنے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔طبی حکام کے مطابق، کانگو کے صوبے ‘ایتوری’ میں اب تک ایبولا کے باعث 65 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 246 مشتبہ کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ یہ وبا اس وقت مشرقی کانگو کے دو اہم ترین طبی علاقوں، مونگوالو اور روامپارا ہیلتھ زونز میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ طبی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت کے اہلکار اس وقت لیبارٹریز میں اس بات کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس حالیہ وبا میں ‘ایبولا زائر’ (Ebola Zaire) کے اثرات شامل ہیں یا نہیں۔ واضح رہے کہ ‘زائر’ اس وائرس کا سب سے مہلک اور خطرناک ترین ورژن مانا جاتا ہے جس میں شرحِ اموات بہت زیادہ ہوتی ہے۔ متاثرہ علاقہ یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحدوں کے بالکل قریب واقع ہے، جس کی وجہ سے خطے کے دیگر ممالک کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے:

  • کانگو کے ہمسایہ ملک یوگنڈا نے بھی اپنے ہاں ایبولا وائرس سے ایک موت کی تصدیق کر دی ہے۔

  • حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر سرحدوں پر سخت طبی سکریننگ نہ کی گئی تو یہ وبا انتہائی تیزی سے یوگنڈا اور جنوبی سوڈان میں داخل ہو کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

بین الاقوامی طبی تنظیموں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ ویکسینیشن اور قرنطینہ (Quarantine) کے ذریعے وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔