LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا 27ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد نہیں پہنچے گی، بانی کی رہائی سزا پوری ہونے کے بعد ممکن ہے: فیصل کریم کنڈی پارلیمنٹ ہاؤس: اپوزیشن چیمبر میں علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات، آئین تحفظ اجلاس پر اہم مشاورت وزیراعلیٰ مریم نواز نے دورہ لندن کیلئے سرکاری طیارے کے استعمال کی رقم ادا کردی

امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا

Web Desk

17 September 2026

امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران اور روس پر معاشی و تجارتی پابندیوں کو سخت اور طویل کرنے سے متعلق ایک اہم قانون سازی کا بل ۱۵۹ کے مقابلے میں ۲۶۲ ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔ ایوان سے منظوری کے بعد قانون کا مسودہ اب حتمی صحافتی و قانونی توثیق اور دستخط کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیج دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس بل کا بنیادی مقصد روس پر معاشی دباؤ میں اضافہ کرنا اور ایران پر عائد پابندیوں کے قانونی دائرہِ اختیار کو مزید وسعت دینا ہے۔

منظور کیے گئے بل کے تحت ۱۹۹۶ء کے ‘ایران سینکشنز ایکٹ’ (ISA) کی مدت میں باضابطہ طور پر مزید پانچ سال کی توسیع کی گئی ہے۔ اس توسیع کے نتیجے میں مذکورہ قانون کی موجودہ میعاد، جو ۲۰۲۶ء کے اختتام پر ختم ہو رہی تھی، اب بڑھ کر ۲۰۳۱ء تک برقرار رہے گی۔ اس اہم قانون سازی کو سینیٹ پہلے ہی منظور کر چکی تھی، جس کے بعد ایوانِ نمائندگان کی منظوری سے اس کی پارلیمانی توثیق کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب یہ صدر کے دستخط ہوتے ہی باقاعدہ قانون بن جائے گا۔

رائے شماری کے دوران ایوان میں دلچسپ سیاسی صورتحال دیکھی گئی، جہاں حکمران ریپبلکن پارٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ ۵۸ ڈیموکریٹ اراکین نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ دیا، جبکہ ۷ ریپبلکن اراکین نے اپنی ہی پارٹی کے موقف کی مخالفت کی اور بل کے خلاف رائے دی۔ معاشی و دفاعی ماہرین کے مطابق اس بل کی منظوری سے مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی یورپ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور روس کی توانائی اور مالیاتی معاملات پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔