LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ

امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا

Web Desk

17 September 2026

امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران اور روس پر معاشی و تجارتی پابندیوں کو سخت اور طویل کرنے سے متعلق ایک اہم قانون سازی کا بل ۱۵۹ کے مقابلے میں ۲۶۲ ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔ ایوان سے منظوری کے بعد قانون کا مسودہ اب حتمی صحافتی و قانونی توثیق اور دستخط کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیج دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس بل کا بنیادی مقصد روس پر معاشی دباؤ میں اضافہ کرنا اور ایران پر عائد پابندیوں کے قانونی دائرہِ اختیار کو مزید وسعت دینا ہے۔

منظور کیے گئے بل کے تحت ۱۹۹۶ء کے ‘ایران سینکشنز ایکٹ’ (ISA) کی مدت میں باضابطہ طور پر مزید پانچ سال کی توسیع کی گئی ہے۔ اس توسیع کے نتیجے میں مذکورہ قانون کی موجودہ میعاد، جو ۲۰۲۶ء کے اختتام پر ختم ہو رہی تھی، اب بڑھ کر ۲۰۳۱ء تک برقرار رہے گی۔ اس اہم قانون سازی کو سینیٹ پہلے ہی منظور کر چکی تھی، جس کے بعد ایوانِ نمائندگان کی منظوری سے اس کی پارلیمانی توثیق کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب یہ صدر کے دستخط ہوتے ہی باقاعدہ قانون بن جائے گا۔

رائے شماری کے دوران ایوان میں دلچسپ سیاسی صورتحال دیکھی گئی، جہاں حکمران ریپبلکن پارٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ ۵۸ ڈیموکریٹ اراکین نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ دیا، جبکہ ۷ ریپبلکن اراکین نے اپنی ہی پارٹی کے موقف کی مخالفت کی اور بل کے خلاف رائے دی۔ معاشی و دفاعی ماہرین کے مطابق اس بل کی منظوری سے مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی یورپ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور روس کی توانائی اور مالیاتی معاملات پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔