LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ

سرحد پار عسکری کارروائیاں ممنوع، خلاف ورزی کرنے والے کو باغی قرار دیا جائے گا ، افغان علما، مشائخ کا اعلامیہ

Web Desk

10 December 2025

کابل یونیورسٹی میں علما، مشائخ، سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے بڑے اجلاس میں بیرون ملک عسکری سرگرمیوں پر سخت پابندی عائد کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا کہ افغانستان سے باہر کسی بھی شخص کو عسکری کارروائی کی اجازت نہیں ہوگی، اور ایسا کرنے والا ’’باغی‘‘ تصور ہوگا۔

اجلاس میں ایک ہزار سے زائد علما نے شرکت کی اور افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرے۔

اعلامیہ کو پاکستان کے دیرینہ مطالبے سے ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان بارہا افغان طالبان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے، تاہم طالبان کی جانب سے اس پر کوئی مؤثر عملی قدم سامنے نہیں آیا۔
استنبول مذاکرات کے تین ادوار بھی بے نتیجہ رہے، کیونکہ افغان طالبان پاکستان کی جانب سے مانگی گئی تحریری ضمانت دینے میں ناکام رہے۔

ماہرین کے مطابق افغان علما کا یہ اعلامیہ خطے کی سکیورٹی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے اور طالبان کے طرزِ عمل پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ افغان میڈیا نے اس پیشرفت کو افغانستان کی سیاسی اور سکیورٹی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔