LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر الیکشن: ن لیگ نے 8 نشستیں جیت کر میدان مار لیا، پیپلزپارٹی 4 پرکامیاب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان صدر مملکت اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب تہران نے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کردیں استحکام پاکستان پارٹی کے ایل اے 6 کے امیدوار علی شان سونی گرفتار سعودی عرب پر حملہ: عراقی وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیدیا امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج حوثی گروہ کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتے ہیں: یمنی وزیر خارجہ صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے معاملے پر آپشنز محدود ہیں: امریکی میڈیا نائجیریا میں مسلح افراد کا گاؤں پر حملہ، 30 افراد ہلاک، متعدد مکان نذر آتش

عمران خان کی نہتی، باپردہ خواتین کو بالوں سے گھسیٹنا قانون کی توہین ہے، راجہ ناصر 

Web Desk

10 December 2025

اڈیالہ جیل کے باہر سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں پر پولیس کے ہاتھوں بدسلوکی اور واٹر کینن کے استعمال نے انسانی حقوق کے عالمی دن سے چند لمحے قبل ملک میں بنیادی آزادیوں کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

وائس چیئرمین تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان اور سربراہ مجلس وحدت المسلمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان کو اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ دینا، اور نہتی، باپردہ بزرگ خواتین کو بالوں سے گھسیٹنا اور ہراساں کرنا آئین، قانون اور انسانی احترام کی کھلی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ توہین صرف عمران خان کی بہنوں کی نہیں بلکہ پاکستان کی ہر ماں، بہن اور بیٹی کی بے حرمتی ہے۔ ایسا ظلم قرآن، آئین اور عالمی انسانی حقوق کے تمام تقاضوں کے منافی ہے، تاہم تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کبھی قائم نہیں رہتا۔

سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم آئین، انصاف، آزاد انتخابات اور قومی مفاہمت کی بات کر رہے ہیں تاکہ ملک کو موجودہ سیاسی بند گلی سے نکالا جا سکے، لیکن اگر اب بھی درست راستہ نہ چُنا گیا تو وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہم سچ، عزتِ نفس اور انسانی کرامت کے راستے پر قائم رہیں گے، اور اللہ ہی ہماری آخری امید ہے۔”