LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

ابرار الحق نے گانے ’نچ پنجابن‘ کی تخلیق کی دلچسپ کہانی سنا دی

Web Desk

8 July 2026

معروف پاکستانی گلوکار ابرار الحق نے اپنے مقبول ترین اور سدا بہار گانے ’نچ پنجابن‘ کی تخلیق کے پیچھے چھپی ایک دلچسپ کہانی سے پردہ اٹھایا ہے، اور بتایا ہے کہ اس گانے کا مشہورِ زمانہ جملہ “گانے نوں دے دے پنجابی ٹچ” کس طرح وجود میں آیا۔

ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں ابرار الحق نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اس گانے کے ابتدائی بول لکھ رہے تھے، تو اس میں “میری سائیکل ہولی چل دی سی، میں گاڈی فل پگھاواں گا، سائیکل تے بندے دو بندے، میں پوری قوم بٹھا منگاں” جیسے جملے شامل تھے۔ اسی دوران انہوں نے اپنے کزن ٹیپو سے گانے کے حوالے سے ان کی رائے مانگی۔

گلوکار کے مطابق انہوں نے پوچھا، “ٹیپو! کیسا لگ رہا ہے؟” جس پر ان کے کزن نے جواب دیا کہ گانا تو اچھا ہے، لیکن اس میں وہ روایتی ‘پنجابی ٹچ’ محسوس نہیں ہو رہا۔ ابرار الحق نے بتایا کہ کزن کی یہی بات ان کے ذہن میں گھر کر گئی اور انہوں نے گانے پر مزید کام کرتے ہوئے اچانک یہ لازوال مصرع تخلیق کر ڈالا:

“تھوڑا جیا گانے نوں دے دے پنجابی ٹچ، تھوڑا جیا میوزک نوں دے دے پنجابی ٹچ۔”

انہوں نے کہا کہ یہی وہ موڑ تھا جس نے اس گانے کو ایک بالکل نئی پہچان دی اور ’نچ پنجابن‘ اپنے اسی منفرد انداز میں مکمل ہو کر سامنے آیا۔

واضح رہے کہ ابرار الحق نے 1995ء میں اپنے پہلے البم ’بِلو دے گھر‘ سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا تھا، جس کی دنیا بھر میں 1 کروڑ 60 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد انہیں پاکستان میں پاپ اور بھنگڑا موسیقی کا بے تاج بادشاہ تسلیم کیا جانے لگا۔ بعد ازاں ان کے کئی دیگر گانے بھی سپر ہٹ ہوئے جنہوں نے پاکستانی بھنگڑا میوزک کو دنیا بھر میں ایک نئی شناخت دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2000ء کی دہائی کے آغاز میں اس گانے کو کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، جہاں لفظ ‘پنجابن’ کے استعمال پر اعتراض اٹھایا گیا۔ تاہم، ابرار الحق نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس گانے کو نئے انداز میں ریکارڈ کیا اور اس کا نام بدل کر ’نچ مجاجن‘ رکھ دیا تھا، جسے مداحوں نے پھر بھی بے حد پسند کیا۔