LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانیہ میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام میں خرابی، 2 ہزار سے زائد پروازیں متاثر رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے پہلے روز کے بعد اپوزیشن قیادت کی اہم بیٹھک سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا پُرتشدد انتشار، 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کیساتھ بلاامتیاز نمٹا جائیگا: کور کمانڈرز کانفرنس اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین سمیت اہم امور پر مؤقف مدلل انداز میں پیش کیا: اسحاق ڈار وزیر خزانہ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا صومالی قزاقوں سے چار پاکستانی چھڑوا لیے، کل وطن پہنچیں گے: اسحاق ڈار الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 14 دسمبر کو کرانے کی تجویز دیدی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان ملاقات، تمام بات چیت راز میں رکھنے پر زور جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن ارکان کا اہم جرگہ، سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری پیٹرول سبسڈی اور گیس کمپنیوں کے واجبات پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

گوگل نے صارفین کو شرمندگی سے بچانے کیلئے اہم فیچر متعارف کرادیا

Web Desk

30 December 2025

اگر آپ نے کم عمری میں کوئی انتہائی بچگانہ یا شرمندگی والا ای میل ایڈریس بنا لیا تھا تو گوگل نے آپ کی مشکل آسان کر دی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے جی میل صارفین کے لیے ایک طویل عرصے سے مطلوب فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اب صارفین اپنا موجودہ ای میل ایڈریس تبدیل کر سکیں گے۔

گوگل کے اکاؤنٹ ہیلپ پیج کے مطابق اس نئے فیچر کی بدولت جی میل اکاؤنٹ ہولڈر اپنا ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کے باوجود اپنا تمام ڈیٹا، ای میلز اور اکاؤنٹ معلومات محفوظ رکھ سکیں گے، جسے صارفین کے لیے ایک بڑی سہولت قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اپ ڈیٹ سے متعلق مکمل ہدایات فی الحال صرف گوگل کے سپورٹ پیج کے ہندی ورژن پر موجود ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ اس فیچر کا آغاز ابتدائی طور پر بھارت میں کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ فیچر عالمی سطح پر متعارف کرایا گیا تو کروڑوں جی میل صارفین برسوں پرانے ناپسندیدہ ای میل ایڈریس سے نجات حاصل کر سکیں گے