LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
الینوائے میں ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید نے ری پبلکن کے ڈاربی ہلز کو شکست دیدی ٹرمپ کی شدید مخالفت کے باوجود مشی گن سے عبدل السید مسلم سینیٹر منتخب وسط مدتی انتخابات کیلئے ایلون مسک کی بھاری مالی معاؤنت بھی کام نہ آئی عوام نے تقسیم کے بجائے اتحاد کی سیاست کا پیغام دیا: باراک اوباما امریکی عوام نے جنگ کے خلاف فیصلہ دے دیا: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کا سامنا، ڈیموکریٹ پارٹی واضح اکثریت سے کامیابی کی جانب گامزن بریت کے باوجود پولیس بھرتی سے نااہلی غیر قانونی قرار، 6 اہم اصول طے وزیراعظم آزاد کشمیر کا راولاکوٹ میں امن و امان اور انتظامی امور کا جائزہ مڈٹرم الیکشن کے نتائج قبول، ایران جنگ اور مہنگائی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنی: ٹرمپ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا مثبت رحجان ایران پر حملے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: امریکی صدر ٹرمپ 10 یورپی ممالک کا یوکرین کی حمایت میں پولینڈ میں مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان نیویارک میں خسرہ کی وباء شدت اختیار کر گئی، 30 سال بعد پہلی موت اسرائیل کی فلسطینیوں کے ساڑھے 9 ہزار گھر تباہ کرنیکی تیاری، مالکان کو نوٹس جاری ڈیجیٹل ذرائع حق خودارادیت کی تحریکوں کو دبانے کیلئے استعمال کئے جا رہے: پاکستان

مڈٹرم الیکشن کے نتائج قبول، ایران جنگ اور مہنگائی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنی: ٹرمپ

Web Desk

4 November 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابی نتائج کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نتائج کو قبول کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر آئینی حدود میں کام کرنے کے لیے ان کا ہاتھ بڑھانے کو تیار ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویوز میں صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران جنگ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی ریپبلکنز کی انتخابی ناکامی کی بنیادی وجہ بنے، کیونکہ عوام قلیل مدتی معاشی اثرات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے ڈیموکریٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنی کابینہ میں فی الوقت کوئی تبدیلی نہیں کر رہے اور امیگریشن جیسے معاملات پر باہمی تعاون ممکن ہے، تاہم غیر ضروری نوعیت کے قانون سازی بل پیش کیے جانے کی صورت میں وہ اپنے صدارتی ویٹو کا حق استعمال کریں گے۔