LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چائنا کمیونسٹ پارٹی کا عوام سے جڑے رہنے کا ماڈل قابلِ تقلید ہے: اسحاق ڈار دہشت گردی کے سہولت کاروں میں خیبرپختونخوا کی نااہل حکومت بھی تھی: ترجمان پاک فوج ایرانی 7 نکاتی تجویز پر آئندہ چند روز میں عملدرآمد کا امکان ہے: اسماعیل بقائی بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی کا معاملہ: ہائیکورٹ نے ڈی سی لاہور کو طلب کر لیا عظمیٰ بخاری کی ذاتی پیشی کا حکم معطل، وارنٹ گرفتاری پر بھی عملدرآمد روک دیا وفاقی آئینی عدالت: فضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس میں درخواست واپس لینے پر نمٹا دی گئی صحافیوں کیخلاف جرائم پر خاموشی انصاف کی آواز دبانے کے مترادف ہے: بلاول بھٹو پائیدار ترقی کے لئے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے: وفاقی وزیر احسن اقبال چینی صدر کا مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار حنا بٹ کی کراچی کو لڑکیوں کیلئے جیل قرار دینے پر حنا الطاف کو لاہور آنے کی دعوت مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں اضافے اور نجی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے: وزیر خزانہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات، 5 کروڑ 20 لاکھ سے زائد ووٹ کاسٹ پنجاب: دیہی خواتین کے روزگار کے لئے بڑا منصوبہ تیار، رجسٹریشن شروع انڈونیشیا میں جنگلاتی آگ کے زہریلے دھوئیں سے ایک ماہ میں ہزاروں اموات لاہور ہائیکورٹ کا ڈیلی ویجز ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ

اے آئی سے تیار کردہ وائرس سے مریض کے علاج کا تجربہ

Web Desk

1 November 2026

سائنس دانوں نے طب کی دنیا میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے پہلی بار ایک انسانی مریض کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے خصوصی طور پر تیار کردہ وائرس دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد ایسے خطرناک بیکٹیریل انفیکشنز کا مؤثر علاج کرنا ہے جن پر روایتی اینٹی بائیوٹکس مکمل طور پر بے اثر ہو چکی ہیں۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم مصنوعی ذہانت کی جدید کمپنی ’ریڈیکل نیومرِکس‘ کے مطابق، ایک انتہائی سنگین بیکٹیریل انفیکشن میں مبتلا مریض کو یہ تجرباتی علاج فراہم کیا گیا، جس میں کمپنی کے جدید ترین اے آئی ماڈل ’اومنی-1‘ کی مدد سے ڈیزائن کردہ وائرس کو شامل کیا گیا۔ یہ اے آئی ماڈل ’بیکٹیریوفیجز‘ (Bacteriophages) نامی ایسے وائرس تیار کرتا ہے جو انسانی صحت مند خلیوں کو ذرا برابر بھی نقصان پہنچائے بغیر صرف مخصوص نقصان دہ بیکٹیریا کو نشانہ بناتے ہیں اور انہیں اندر سے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ ڈاکٹرز اس سے قبل بھی سنگین انفیکشنز کے علاج کے لیے ’فیج تھراپی‘ کو تجرباتی طور پر استعمال کرتے آئے ہیں، خصوصاً ایسے مریضوں کے لیے جن کے پاس علاج کے مزید کوئی آپشنز باقی نہیں بچتے، تاہم روایتی طریقوں میں لیبارٹریز کے اندر ایسے قدرتی وائرس کی طویل تلاش کی جاتی ہے جو مریض کے جسم میں موجود خاص بیکٹیریا کا خاتمہ کر سکے۔

اس کے برعکس، اے آئی ماڈل ’اومنی-1‘ نے روایتی طریقہ کار سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے وائرس کے ایک مخصوص حصے کو بالکل نئے سرے سے ڈیزائن کیا، تاکہ وہ انفیکشن پیدا کرنے والے ہدف (بیکٹیریا) کو انتہائی درستگی اور تیزی کے ساتھ پہچان کر اس پر بھرپور حملہ کر سکے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل میں اس پورے پیچیدہ عمل کو صرف چند دنوں تک محدود کیا جا سکے گا۔ رپورٹ کے مطابق مریض کو یہ تجرباتی علاج ایک خصوصی طبی پروگرام کے تحت دیا گیا، جو ڈاکٹروں کو ایسے مایوس کن اور پیچیدہ کیسز میں غیر معمولی و تجرباتی طریقہ ہائے علاج استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے جہاں عام ادویات ناکام ہو جاتی ہیں۔