LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کا ارکان اسمبلی کی سکیورٹی واپس لینے پر اظہار تشویش، آئی جی کو مراسلہ ارسال کردیا پی ٹی آئی نے گورنر ہاؤس پر چڑھائی کی تو غیر قانونی اقدام کے جرم میں سہیل آفریدی کو گرفتار کرنے کا حکم دیں گے: فیصل کریم کنڈی فلوریڈا میں سمندری طوفان سے تباہی، 2 افراد ہلاک، 8 لاکھ صارفین بجلی سے محروم یوکرینی علاقے پر روسی حملے: 3 بچوں سمیت 20 افراد ہلاک، 18 زخمی حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد سعودی عرب کا فلائٹ آپریشن شدید متاثر بارش، آندھی اور طوفان کا خدشہ، پنجاب میں کا الرٹ جاری کردیا سال کے آغاز کے مقابلے میں پٹرول 145، ڈیزل 139 روپے مہنگا ہوا ملک کی معاشی ترقی کیلیے موثر اقدامات کی ضرورت، احسن اقبال کراچی، عمرہ زائرین اور بین الاقوامی مسافروں کی ویکسی نیشن شروع بغیر کھڑکیوں والا حیرت انگیز جدید مسافر طیارے کی تیاری پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان پیرس میں بچوں کے جنسی استحصال نیٹ ورک, بھارتی شہری کو 20 سال قید اسلام آباد؛ طالبہ کو فراڈ سے موت کے منہ میں پہنچانے والا ملزم گرفتار، مقدمہ بھی درج آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکراگیا؛ خوفناک آگ بھڑک اُٹھی مولانا فضل الرحمان کا وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی سے رابطہ

اے آئی نے امریکا میں نقل کا بحران سنگین کر دیا، 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹ چیٹ بوٹ سے لکھوانے لگے

Web Desk

10 October 2026

امریکی تعلیمی اداروں اور عالمی تحقیقی حلقوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے بڑھتے ہوئے غیر متوازن استعمال پر شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جدید میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ میں تقریباً 95 فیصد طلبہ اپنے تعلیمی ہوم ورک اور اسائنمنٹس AI چیٹ بوٹس سے مکمل کروا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اساتذہ سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس رحجان کے باعث طلبہ حقیقی علمی صلاحیتیں اور تحریری مہارتیں سیکھنے کے بجائے صرف “سیکھنے کی خوش فہمی” کا شکار ہو رہے ہیں۔

اساتذہ کے لیے صورتِ حال مزید چیلنجنگ اس وقت بن گئی جب جدید “ہیومنائزنگ” (Humanizing) اے آئی ٹولز سامنے آ گئے، جو بوٹ کی تحریر کو اتنی صفائی اور فطری انداز میں بدل دیتے ہیں کہ اساتذہ کے لیے AI سے لکھی گئی تحریر کو پکڑنا ناممکن حد تک مشکل ہو گیا ہے۔ ریسرچرز کے مطابق اساتذہ اور تعلیمی ادارے “ڈیٹیکٹرز بمقابلہ ایویڈرز” (Detectors vs Evaders) کی اس تکنیکی جنگ میں عملاً ناکام ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب، یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس کی ایک تازہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ مسلسل AI پر انحصار انسانی ساخت، تنقیدی سوچ اور علم کو دبا رہا ہے جس کا حتمی نتیجہ شدید کم عقلی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ 27 مختلف لارج لینگوئج ماڈلز (LLMs) کا جائزہ لینے کے بعد محققین نے دریافت کیا کہ بہترین AI چیٹ بوٹس کی معلومات میں روایتی گوگل سرچ انجن کے مقابلے میں 19 فیصد کم تنوع (Diversity) ہوتا ہے۔ یعنی چیٹ بوٹس گھسے پٹے اور ایک جیسے خیالات فراہم کرتے ہیں، جس سے انسانی ذہن میں نئے اور تخلیقی خیالات کا احاطہ کرنے کی صلاحیت محدود ہوتی جا رہی ہے۔