LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ

ٹرمپ نے بی بی سی کے خلاف ہتکِ عزت کا 5 ارب ڈالر کا مقدمہ دائر کر دیا

Web Desk

16 December 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے فلوریڈا کی عدالت میں بی بی سی کے خلاف 5 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ بی بی سی نے 6 جنوری کی ان کی تقریر کا ایڈٹ شدہ اور سیاق و سباق سے ہٹ کر کلپ نشر کیا، جس سے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ ٹرمپ کے مطابق ادارے نے ان کے بیانات کو اس انداز میں پیش کیا جس سے غلط تاثر پیدا ہوا۔

یاد رہے کہ بی بی سی نے ایک ڈاکیومنٹری میں ٹرمپ کی تقریر کے مختلف حصوں کو جوڑ کر یہ تاثر دیا تھا کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو کیپیٹل کی جانب مارچ اور تشدد پر اکسانے کی ہدایت دی۔

تاہم بعد ازاں یہ واضح ہوا کہ مذکورہ جملے تقریر کے مختلف حصوں سے لیے گئے تھے، جو تقریباً ایک گھنٹے کے وقفے سے ادا کیے گئے تھے، لیکن انہیں یکجا کر کے نشر کیا گیا۔

بی بی سی نے بعد میں اپنے عمل کو غلط قرار دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ سے معذرت بھی کر لی۔ ادارے نے تسلیم کیا کہ 6 جنوری 2021 کی تقریر کے مختلف حصوں کو اس انداز میں جوڑا گیا جس سے یہ غلط تاثر پیدا ہوا کہ ٹرمپ نے براہِ راست تشدد پر اکسانے کی اپیل کی تھی۔

اس معاملے پر بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور بی بی سی نیوز کی سربراہ ڈیبورا ٹرنس مستعفی بھی ہو چکی ہیں۔