جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار
Web Desk
17 September 2026
ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ان کے وفد میں شامل درجنوں اعلیٰ حکام کی ویزا درخواستیں منسوخ و مسترد کر دی ہیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب امریکی انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی صدر کو نیویارک آنے اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ ایوان سے ذاتی طور پر خطاب کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ قومی سلامتی کی پالیسیوں، سفارتی امن کوششوں اور امریکی قانون سازی کے تحت فلسطینی قیادت کو جوابدہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
فلسطینی حکام نے امریکی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے ‘میزبان ملک کے معاہدے’ (Host Country Agreement) کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس عالمی معاہدے کے تحت امریکہ پر قانوناً لازم ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے آنے والے تمام رکن ممالک کے نمائندوں اور عالمی رہنماؤں کو بلا تعطل ویزا اور سفری سہولیات فراہم کرے۔ اس امریکی پابندی کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر محمود عباس پچھلے سال کی طرح اس بار بھی اقوام متحدہ کے ہال میں بالمشافہ موجودگی کے بجائے ویڈیو لنک یا پری ریکارڈ شدہ ویڈیو بیان کے ذریعے جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
متعلقہ عنوانات
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی
18 October 2026
امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران
18 October 2026
خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری
18 October 2026
اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
18 October 2026
خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام
18 October 2026
مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب
18 October 2026
خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے
18 October 2026
دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو
18 October 2026