LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان آئندہ چند ماہ میں ایران جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جے ڈی وینس لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ

قائمہ کمیٹی کی سانحہ پمز کے ذمہ داروں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

Web Desk

15 September 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے سانحہ پمز (PIMS) کے ذمہ داروں کے نام فوری طور پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے دوران کمیٹی نے معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر اندر واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کی سخت ہدایت کی۔ اجلاس کے دوران ارکان نے تحقیقات کے طریقہ کار پر شدید تحفظات اور سوالات اٹھائے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے 8 افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم تاحال مقدمہ درج نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔ اس پر ایڈیشنل سیکرٹری صحت نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ سے رابطہ کیا گیا ہے مگر جواب کا انتظار ہے، جس پر سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ صحت خود مدعی بن کر فوری ایف آئی آر درج کروائے۔ سینیٹر احسن مسرور نے جاں بحق بچوں کی میتوں کی حوالگی اور ڈی این اے ٹیسٹ کے عمل میں شفافیت کے فقدان کی نشاندہی کی۔

اجلاس میں افغان طلبہ کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ جن افراد کے پاس مطلوبہ قانونی دستاویزات موجود نہیں، ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے واپس بھیجا جا رہا ہے۔ اس پر سینیٹر ثمینہ ممتاز نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ طلبہ پچھلے تین سال سے زیرِ تعلیم تھے تو اس وقت دستاویزات کی پڑتال کیوں نہ کی گئی؟ سینیٹر احسن مسرور نے استدعا کی کہ افغان طلبہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی جائے جس کے بعد انہیں واپس بھیج دیا جائے۔