LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دشمن کی نئی غلطی کا منہ توڑ جواب دیں گے، ایرانی آرمی چیف سعودی عرب اور یمن کو باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول قبول نہیں: روبیو امریکا سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، امریکی حکام نائجیریا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 32 افراد سوار تھے مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری نئی جنگ کی صورت میں خطے کے امریکی اتحادی بھی متاثر ہوں گے: ایران ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبے کی کامیابی، مریم نواز کو عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا خیبر پختونخوا کی صورتحال، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مختلف آپشنز پر مشاورت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 6 اور 7 اکتوبر کو بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری پاکستان پولینڈ تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلنے کے خواہاں ہیں: وزیراعظم بانی پی ٹی آئی سے پاکستان کی خاطر بات چیت کرنی چاہیے: علامہ ناصر عباس ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان بھی بحفاظت بازیاب تبدیلی گالیاں دینے سے نہیں، کچھ کر دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال جیٹ فیول کی قیمت میں 3 روز کے دوران 9 روپے سے زائد اضافہ افغانستان پر ماسکو فارمیٹ اجلاس، پاکستان کی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت

اسلام آباد ہائیکورٹ کی پی ٹی آئی احتجاج کیلئے سرکاری وسائل استعمال نہ کرنے کی ہدایت

Web Desk

14 September 2026

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف دائر درخواست پر محفوظ کیا گیا اہم فیصلہ سناتے ہوئے مقدمہ واضح ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا ہے۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم لارجر بینچ، جس میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف شامل تھے، نے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت، وزیراعلیٰ یا پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں اور شاہراہیں بند کرنے کا کوئی قانونی و آئینی اختیار نہیں ہے۔

عدالت عالیہ نے اپنے احکامات میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو پابند کیا ہے کہ وہ اس بات کو ہر صورت یقینی بنائیں کہ کوئی سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت اپنے سیاسی احتجاج کے لیے سرکاری مشینری، فنڈز یا وسائط استعمال نہ کرے۔ فیصلے میں سرکاری افسران کے تحفظ اور ان کی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری افسر یا اہلکار کسی بھی غیر قانونی احتجاج یا ریلی میں شرکت کے لیے زبردستی جاری کیے گئے احکامات پر عملدرآمد کا پابند نہیں ہے۔ اگر کسی افسر کو زبردستی مجبور کیا جائے تو وہ بلا تاخیر اپنے صوبے کے چیف سیکرٹری، چیف کمشنر یا آئی جی کو مطلع کرے۔

عدالت نے تمام محکمہ جات کے سربراہان کو مزید ہدایت کی کہ کوئی بھی سرکاری افسر اپنے ماتحت اہلکاروں کو وفاقی دارالحکومت کی جانب آنے والے کسی بھی مارچ یا احتجاج کا حصہ بننے کی اجازت نہ دے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے موقف اختیار کیا تھا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ قیدی کی رہائی اور حکومت گرانے جیسے غیر آئینی مقاصد پر مبنی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کی پولیس قیادت کی جانب سے جمع کرائے گئے بیانِ حلفی پر آئینی و انتظامی نکات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی تھی۔ ہائیکورٹ نے تمام فریقین کے دلائل اور تحریری رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد یہ سنگ میل فیصلہ صادر کیا۔