LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل

جاپان: ریچھوں کو آبادی سے دور رکھنے کیلئے روبوٹ بھیڑیے تعینات

Web Desk

14 December 2025

ہوکائیڈو میں قائم پریزیشن مشیننگ کمپنی اوہٹا سیکی کے تیار کردہ روبوٹ بھیڑیوں کو کھیتوں اور دیگر علاقوں جہاں ریچھوں کے آبادی پر حملے کا امکان ہے وہاں انسانوں کی حفاظت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

جب کوئی جانور آبادی کے قریب آئے گا، ان روبوٹ بھیڑیوں کے انفراریڈ سینسر متحرک ہو جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں میں سرخ رنگ کی لائٹس جلنے لگتی ہیں جس کے بعد ان کا سر گھومتا ہے پھر نیلی ایل ای ڈی لائٹس چمکنے لگتی ہیں اور یہ ایک گاڑی کے ہارن کی طرح تیز آوازیں نکالتے ہیں۔

یہ روبوٹ بھیڑیے تقریباً 50 مختلف آوازوں نکال سکتے ہیں جن میں جانوروں کی چیخیں اور انسانی آوازیں شامل ہیں، جاپان میں یہ تجربہ 2016ء میں بھی کیا گیا تھا لیکن اس وقت یہ ناکام ہوگیا تھا لیکن اب جب دوبارہ یہ تجربہ کیا گیا تو کامیاب رہا۔

اوہٹا سیکی کے صدر یوجی اوٹا نے بتایا کہ ریچھ بہت محتاط رہ کر کام کرنے والا جانور ہے اور اکثر اکیلے ہی اپنا کام کرتا ہے، اس لیے جب کوئی اونچی آواز سنتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ یہاں آس پاس کوئی خطرہ ہے اس لیے پھر وہ آبادی کے قریب نہیں آئے گا۔