LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چینی صدر کی مصری ہم منصب سے ملاقات، مشرق وسطیٰ کے جامع حل پر زور آزاد کشمیر حکومت کا 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کا اعلان ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سجاد حسین حکومتی احکامات کی عدم تعمیل پر معطل لمپی سکن ڈیزیز، بروسیلا ویکسینز کا عطیہ، چینی حکومت کا تعاون قابل تحسین ہے: رانا تنویر حسین وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے نظام کی منظوری دے دی سندھ ہائیکورٹ کا کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت فوری ڈی سیل کر کے قبضہ درخواست گزاروں کے حوالے کرنے کا حکم میر رضا کیس: جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری بانی پی ٹی آئی سے رفقاء کی ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کے حوالے پاکستان امن عمل سے مایوس نہیں، فریقین مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے: دفتر خارجہ میئر لندن صادق خان کو ٹیکس کے بغیر گاڑی رکھنے پر جرمانہ عائد پنجاب حکومت کا برتھ اور ڈیتھ کی لیٹ رجسٹریشن کی فیس پر ریلیف ایران نے حملہ کیا تو اسرائیل بھرپور طاقت سے جواب دے گا: اسرائیل کاٹز عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: بیان ریکارڈ، جرح کیلئے 12 ستمبر کی تاریخ مقرر ایران جوہری ہتھیار سے دو ہفتے دور تھا، اس لیے اسے تباہ کردیا، ٹرمپ سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے میں عملے کے دو ارکان جاں بحق ہوئے: وزارت خارجہ

وزیراعظم کی صدر بیلاروس سے ملاقات، دورہ پاکستان کی دعوت دے دی

Web Desk

1 September 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے 26ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر جمہوریہ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤ ں نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور صدر لوکاشینکو نے سیاسی، تجارتی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں جاری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤ ں نے نومبر 2024ء میں صدر لوکاشینکو کے تاریخی دورۂ پاکستان اور اپریل 2025ء میں وزیراعظم کے بیلاروس کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے تجارت، صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنی تربیت کو باہمی تعاون کے لیے ترجیحی شعبے قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی آئندہ چیئرمین شپ کے تناظر میں صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کو اگلے سال پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی پرخلوص دعوت دی۔ دونوں ممالک کے سربراہان نے پاکستان اور بیلاروس کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو فعال بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔