LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم ایران کی جانب سے خطرات، رکن ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں: نیٹو پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار کینیا میں سیاحوں کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 5 امریکیوں سمیت 7 افراد ہلاک راشد منہاس شہید کا 55واں یوم شہادت، افواجِ پاکستان کا زبردست خراج عقیدت مقبوضہ مغربی کنارے یہودی آبادکاری منصوبہ، برطانیہ کا اسرائیل سے شدید احتجاج 20 جولائی سے اب تک 48 سعودی تیل بردار بحری جہازوں کو روکا گیا، حوثی گروپ کا دعویٰ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب بند کرنے پر غور شروع کر دیا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک کوئی رقم جاری نہیں ہوئی، سربراہ ایران مرکزی بینک امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ناکہ بندی توڑ کر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس داخل

پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار

Web Desk

20 August 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی بیوروکریسی اور سرکاری ملازمتوں سے متعلق ایک اہم اور معرکہ الآرا فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی (PEEDA) ایکٹ کے تحت باقاعدہ انکوائری کے بغیر کسی ملازم کو نوکری سے برطرف کرنا غیر قانونی اور آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے یہ حکم لاہور جنرل ہسپتال کے مستقل سیکیورٹی گارڈ شفیق خوشنود کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیا۔ درخواست گزار پر یکم مئی 2024 کو ہسپتال سے اے سی پائپ چوری کرنے اور جون و جولائی کے دوران ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کے الزامات عائد کر کے 24 جولائی 2024 کو محض شوکاز نوٹس کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ محکمہ، سروس ٹربیونل اور اپیلٹ فورمز سے داد نہ ملنے پر اس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پیڈا ایکٹ میں برطرفی (Dismissal) بطور سزا شامل ہی نہیں ہے، اس لیے اس قانون کے تحت کسی ملازم کو برطرف کرنا قانونی اختیار سے تجاوز ہے۔ جسٹس ملک اویس خالد نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 4 اور 10-A کے تحت ہر شہری کو منصفانہ سماعت اور قدرتی انصاف کا پورا حق حاصل ہے۔ جب الزامات متنازع ہوں اور ملازم ان سے انکار کرے، تو گواہوں اور شہادتوں کی جانچ کے بغیر محض شوکاز نوٹس پر بڑی سزا مسلط نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے درخواست گزار کی برطرفی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ملازمت پر بحال کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم، ہائیکورٹ نے متعلقہ محکمہ کو یہ قانونی اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو ملازم کے خلاف قانون کے مطابق باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر سکتے ہیں اور اس کی واجب الادا مراعات کا فیصلہ قانون کے مطابق کر سکتے ہیں۔