LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ حکومت کا 15 اکتوبر سے سرکاری گندم جاری کرنے کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی ایم ایل ون منصوبہ تیزی سے آگے بڑھانے کی ہدایت عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ آئل 101 ڈالر فی بیرل سے متجاوز ایران کے لیڈر مارے جا چکے، کوئی نہیں جانتا ملک کون چلا رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور پولینڈ کا سکیورٹی و انسدادِ دہشتگردی تعاون بڑھانے پر اتفاق آئی ایم ایف کے اعتراضات برقرار، آٹو پالیسی پر تاحال فیصلہ نہ ہوسکا امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی نئی او پی ٹی فیس کی تجویز، کالجز کو بھاری جرمانے یا فیس ادا کرنا ہوگی ڈیزل سستا، پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ کردیا گیا عمران سے ملاقات کے بغیر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے: محمود اچکزئی مولانا کو عمرے کی مبارکباد دینے آیا، ملک کی بہتری کیلئے دعا گو ہوں: سپیکر قومی اسمبلی وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ملاقات، علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ایرانی فوج کا طویل جنگ کیلئے مکمل تیاری اور پیشگی کارروائیوں کا اعلان ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی کی تصدیق اسلام آباد پر لشکر کشی کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، تمام وسائل بروئے کار لائیں گے: خواجہ آصف 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کو شکست دی: حافظ نعیم الرحمان

پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار

Web Desk

20 August 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی بیوروکریسی اور سرکاری ملازمتوں سے متعلق ایک اہم اور معرکہ الآرا فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی (PEEDA) ایکٹ کے تحت باقاعدہ انکوائری کے بغیر کسی ملازم کو نوکری سے برطرف کرنا غیر قانونی اور آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے یہ حکم لاہور جنرل ہسپتال کے مستقل سیکیورٹی گارڈ شفیق خوشنود کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیا۔ درخواست گزار پر یکم مئی 2024 کو ہسپتال سے اے سی پائپ چوری کرنے اور جون و جولائی کے دوران ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کے الزامات عائد کر کے 24 جولائی 2024 کو محض شوکاز نوٹس کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ محکمہ، سروس ٹربیونل اور اپیلٹ فورمز سے داد نہ ملنے پر اس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پیڈا ایکٹ میں برطرفی (Dismissal) بطور سزا شامل ہی نہیں ہے، اس لیے اس قانون کے تحت کسی ملازم کو برطرف کرنا قانونی اختیار سے تجاوز ہے۔ جسٹس ملک اویس خالد نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 4 اور 10-A کے تحت ہر شہری کو منصفانہ سماعت اور قدرتی انصاف کا پورا حق حاصل ہے۔ جب الزامات متنازع ہوں اور ملازم ان سے انکار کرے، تو گواہوں اور شہادتوں کی جانچ کے بغیر محض شوکاز نوٹس پر بڑی سزا مسلط نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے درخواست گزار کی برطرفی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ملازمت پر بحال کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم، ہائیکورٹ نے متعلقہ محکمہ کو یہ قانونی اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو ملازم کے خلاف قانون کے مطابق باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر سکتے ہیں اور اس کی واجب الادا مراعات کا فیصلہ قانون کے مطابق کر سکتے ہیں۔