LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چیف جسٹس پاکستان کی بار نمائندگان سے مشاورتی نشست، ڈیجیٹل عدالتی اصلاحات پر بریفنگ حافظ نعیم الرحمان کا مفت تعلیم کے حق میں تحریک شروع کرنے کا اعلان ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج ٹرمپ ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں: نیویارک ٹائمز بچوں کے خون سے سودا کرنے والوں سے کیا مذاکرات کریں: دانیال چودھری پاکستان اور ویٹیکن کا بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر اتفاق ماہ ستمبر 2026 کے دوران ملک میں 5 ہزار 241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ سہیل آفریدی کا شارٹ مارچ دہشتگرد تنظیموں کے حق میں ہے: عظمیٰ بخاری ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار، اصولوں پر سمجھوتا نہیں ہوگا: سلمان اکرم راجہ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا علیمہ خان کیخلاف کیس کا فیصلہ پھر مؤخر، سہیل آفریدی کی درخواست پر سماعت ملتوی پاکستان اور بحرین کا تجارت، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مریم نواز کا پنجاب کے ہر ضلع میں پی ایچ اے قائم کرنے کا فیصلہ

بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت

Web Desk

19 August 2026

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمان کو فعال اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمانی نظام کو عزت دی ہے اور چاہتی ہے کہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پارلیمنٹ اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ اگر واقعی پارلیمان کو بااختیار اور محترم بنانا ہے تو اس کی تمام قائمہ کمیٹیوں کو فوری طور پر فعال کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ بائیکاٹ ختم کر کے قائمہ کمیٹیوں کا حصہ بنیں تاکہ ملک میں جمہوری اور قانونی اصلاحات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے، اور امید ظاہر کی کہ اپوزیشن اپنے فیصلے پر مثبتیت کے ساتھ نظرِ ثانی کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انتخابی اصلاحات (Electoral Reforms) میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادی اور وزرا بھی الیکشن پروسیس پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کی یہ مشترکہ قومی ذمہ داری ہے کہ الیکشن سسٹم پر اٹھنے والے تمام اعتراضات کو دور کریں، جس کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں سے بہتر کوئی فورم نہیں ہو سکتا۔

صوبوں کی تشکیل اور انتظامی تقسیم پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے واضح مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خطے پر زبردستی کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ جنوبی پنجاب کے صوبے سے متعلق پہلے سے سیاسی اتفاقِ رائے موجود ہے، تاہم سندھ میں نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا موقف روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ جہاں عوامی اور سیاسی اتفاقِ رائے نہ ہو، وہاں نئے صوبے بنانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔