LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان

بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت

Web Desk

19 August 2026

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمان کو فعال اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمانی نظام کو عزت دی ہے اور چاہتی ہے کہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پارلیمنٹ اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ اگر واقعی پارلیمان کو بااختیار اور محترم بنانا ہے تو اس کی تمام قائمہ کمیٹیوں کو فوری طور پر فعال کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ بائیکاٹ ختم کر کے قائمہ کمیٹیوں کا حصہ بنیں تاکہ ملک میں جمہوری اور قانونی اصلاحات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے، اور امید ظاہر کی کہ اپوزیشن اپنے فیصلے پر مثبتیت کے ساتھ نظرِ ثانی کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انتخابی اصلاحات (Electoral Reforms) میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادی اور وزرا بھی الیکشن پروسیس پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کی یہ مشترکہ قومی ذمہ داری ہے کہ الیکشن سسٹم پر اٹھنے والے تمام اعتراضات کو دور کریں، جس کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں سے بہتر کوئی فورم نہیں ہو سکتا۔

صوبوں کی تشکیل اور انتظامی تقسیم پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے واضح مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خطے پر زبردستی کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ جنوبی پنجاب کے صوبے سے متعلق پہلے سے سیاسی اتفاقِ رائے موجود ہے، تاہم سندھ میں نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا موقف روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ جہاں عوامی اور سیاسی اتفاقِ رائے نہ ہو، وہاں نئے صوبے بنانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔