LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا آغاز

Web Desk

10 December 2025

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا میں نئی قانون سازی کے تحت 10 بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کی رسائی فوری طور پر بند کر دیں، بصورتِ دیگر 4 کروڑ 95 لاکھ آسٹریلین ڈالر تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پابندی پر ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آزادیِ اظہار کے حامی حلقوں نے تنقید کی ہے تاہم والدین اور بچوں کے حقوق کے کارکنوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔دیگر ممالک بھی آسٹریلیا کے اس فیصلے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ بچوں کی ذہنی صحت اور سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے دباؤ کو کم کرنا ہے، انہوں نے بچوں کو مشورہ دیا کہ آنے والی تعطیلات میں فون پر سکرولنگ کے بجائے کوئی نیا کھیل یا ساز سیکھیں یا وہ کتاب پڑھیں جو کافی عرصے سے آپ کی الماری میں رکھی ہے اور خاندان کے ساتھ وقت گزاریں۔ماہرین کے مطابق آسٹریلیا کا یہ اقدام دیگر ممالک کیلئے بھی مثال بن سکتا ہے، کرٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ٹاما لیور نے کہا کہ آسٹریلیا کا فیصلہ ٹیک کمپنیوں کے خلاف ایک ”اہم قدم“ ہے، اور ممکن ہے کہ مزید ممالک بھی ایسے اقدامات کریں۔حکومت کے مطابق ابتدائی فہرست میں شامل دس پلیٹ فارمز وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ بچے نئی ایپس کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کمپنیوں نے پابندی پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ عمر کا تعین آن لائن سرگرمی، سیلفی یا شناختی دستاویزات کے ذریعے کریں گی۔البتہ ایلون مسک کے پلیٹ فارم ”ایکس“ نے اس پابندی کو آزادیِ اظہار کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے جبکہ پابندی کے خلاف ہائی کورٹ میں چیلنج بھی دائر کیا گیا ہے۔