LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا آغاز

Web Desk

10 December 2025

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا میں نئی قانون سازی کے تحت 10 بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کی رسائی فوری طور پر بند کر دیں، بصورتِ دیگر 4 کروڑ 95 لاکھ آسٹریلین ڈالر تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پابندی پر ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آزادیِ اظہار کے حامی حلقوں نے تنقید کی ہے تاہم والدین اور بچوں کے حقوق کے کارکنوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔دیگر ممالک بھی آسٹریلیا کے اس فیصلے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ بچوں کی ذہنی صحت اور سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے دباؤ کو کم کرنا ہے، انہوں نے بچوں کو مشورہ دیا کہ آنے والی تعطیلات میں فون پر سکرولنگ کے بجائے کوئی نیا کھیل یا ساز سیکھیں یا وہ کتاب پڑھیں جو کافی عرصے سے آپ کی الماری میں رکھی ہے اور خاندان کے ساتھ وقت گزاریں۔ماہرین کے مطابق آسٹریلیا کا یہ اقدام دیگر ممالک کیلئے بھی مثال بن سکتا ہے، کرٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ٹاما لیور نے کہا کہ آسٹریلیا کا فیصلہ ٹیک کمپنیوں کے خلاف ایک ”اہم قدم“ ہے، اور ممکن ہے کہ مزید ممالک بھی ایسے اقدامات کریں۔حکومت کے مطابق ابتدائی فہرست میں شامل دس پلیٹ فارمز وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ بچے نئی ایپس کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کمپنیوں نے پابندی پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ عمر کا تعین آن لائن سرگرمی، سیلفی یا شناختی دستاویزات کے ذریعے کریں گی۔البتہ ایلون مسک کے پلیٹ فارم ”ایکس“ نے اس پابندی کو آزادیِ اظہار کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے جبکہ پابندی کے خلاف ہائی کورٹ میں چیلنج بھی دائر کیا گیا ہے۔