LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ علاقائی استحکام کیلئے اہم ہے: فلسطینی صدر پاکستان کی قیادت نے امریکا ایران جنگ کے دوران جرأت مندانہ کردار ادا کیا: ناروے بلوچستان میں گیس کی فراہمی معطل، بولان میں پائپ لائن دھماکے سے متاثر پاکستان کی بڑی جیت، چاول برآمدگی کیس میں بھارت کی اپیل خارج یمنی حوثیوں کا سعودی عرب سے جارحیت روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ڈی جی پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی سروسز اکیڈمی اور ہیڈکوارٹرز کا دورہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ، چیف جسٹس کی بنیادی تنخواہ 15 لاکھ 50 ہزار مقرر جشن آزادی پر خصوصی تھر ڈیزرٹ ٹرین آج کراچی سے روانہ ہوگی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز کور کمانڈر بلوچستان کا پنجگور کا دورہ، مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

یمنی حوثیوں کا سعودی عرب سے جارحیت روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ

Web Desk

13 August 2026

یمن کے ایران نواز حوثی گروہ نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں جاری فوجی کارروائیاں روکنے، ناکہ بندی کا خاتمہ کرنے اور تمام غیر قانونی سرگرمیوں کو ختم کرنے کا جرات مندانہ اور دانشمندانہ فیصلہ کرے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام ‘صبا نیوز ایجنسی’ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے دونوں ممالک کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ خطے میں امن کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

حوثی ترجمان نے خبردار کیا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے لیے یمن میں فوجی مداخلیت جاری رکھنے سے بہتر ہے کہ وہ امن کی راہ اختیار کرے، کیونکہ ماضی کی کارروائیوں سے سعودی عرب کو جو مالی و عسکری نقصان پہنچا ہے، آئندہ ہونے والے نقصانات اس سے کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔

یہ بیان حوثیوں کی جانب سے یمنی سرکاری افواج اور بحیرۂ احمر میں سعودی مفادات و بحری جہازوں پر کیے گئے حالیہ حملوں اور جولائی میں اعلانیہ بحری ناکہ بندی کی لہر کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے۔