LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی شاہِ اردن سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال 30 دن تک بغیر دھوئے پہنے جانے والی ٹی شٹ متعارف فرانسیسی خبر رساں ادارے کی صحافی کرسٹینا کیلئے انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ اسرائیلی آرمی چیف کا غزہ میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کا اعلان پیٹریاٹ میزائل بنانے پر امریکا اور یوکرین کے مذاکرات، ٹرمپ کے تحفظات برقرار امریکا، چین اور روس کے درمیان محدود نوعیت کی نئی شراکت داریاں قائم جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے، ایک شخص جاں بحق، 11 زخمی وزیر اعظم 2 روزہ سرکاری دورے پر آج سعودی عرب روانہ ہوں گے ایران سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں، بات چیت جاری ہے: امریکی صدر سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ناگزیر قرار دیدیا چین کا افریقی ممالک میں ایبول کی وبا کے انسداد میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان کانگو میں ایبولا کی وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے نئی ویکسین کی آزمائش شروع کردی: ڈبلیو ایچ او ایران کی نئی امریکی کارروائی پر خلیج کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی وارننگ آبنائے ہرمز پر ایران کو محدود کنٹرول دینے کی تجویز زیر غور امریکا، ایران اور عمان کا آج آبنائے ہرمز سے متعلق عبوری معاہدے کا اعلان متوقع

فرانسیسی خبر رساں ادارے کی صحافی کرسٹینا کیلئے انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ

Web Desk

6 August 2026

فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کی صحافی کرسٹینا آسی کو کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کی جانب سے ‘انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ’ سے نوازا جائے گا۔ سی پی جے کے مطابق کرسٹینا آسی نے اکتوبر 2023ء میں لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر رپورٹنگ کے دوران ایک اسرائیلی ٹینک کے حملے میں شدید زخمی ہو کر اپنی ایک ٹانگ گنوا دی تھی۔ اس حملے میں رائٹرز کے صحافی عصام عبداللہ ہلاک جبکہ اے ایف پی کے ڈیلن کولنز سمیت 6 دیگر صحافی زخمی ہوئے تھے۔ اے ایف پی کی آزادانہ تحقیقات سے ثابت ہوا تھا کہ اسرائیل کے علاقے جردیخ سے فائر کیے گئے دو 120 ملی میٹر ٹینک گولوں نے صحافیوں کو نشانہ بنایا تھا۔

نیویارک میں 19 نومبر کو ہونے والی ایوارڈ تقریب کے حوالے سے سی پی جے نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ واقعہ اسرائیل کی جانب سے صحافیوں پر حملے کا سب سے زیادہ دستاویزی شواہد رکھنے والا واقعہ ہے، مگر تین سال گزرنے کے باوجود اب تک کسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ تنظیم کے مطابق شدید جسمانی معذوری کے باوجود کرسٹینا آسی نے عصام عبداللہ کے قتل کے لیے انصاف، صحافیوں کے تحفظ کی جدوجہد اور جنگ کے دوران معذور ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے مسلسل آواز بلند کی ہے، جس کے اعتراف میں انہیں اس عالمی اعزاز سے نوازا جا رہا ہے۔