LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے، ایک شخص جاں بحق، 11 زخمی وزیر اعظم 2 روزہ سرکاری دورے پر آج سعودی عرب روانہ ہوں گے ایران سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں، بات چیت جاری ہے: امریکی صدر سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ناگزیر قرار دیدیا چین کا افریقی ممالک میں ایبول کی وبا کے انسداد میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان کانگو میں ایبولا کی وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے نئی ویکسین کی آزمائش شروع کردی: ڈبلیو ایچ او ایران کی نئی امریکی کارروائی پر خلیج کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی وارننگ آبنائے ہرمز پر ایران کو محدود کنٹرول دینے کی تجویز زیر غور امریکا، ایران اور عمان کا آج آبنائے ہرمز سے متعلق عبوری معاہدے کا اعلان متوقع 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات غیر قانونی اور یکطرفہ تھے، عاصم افتخار حکومتِ پاکستان نے “فارن میڈیا فیسلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026” جاری کر دیں: غیر ملکی و مقامی صحافیوں کے لیے آن لائن رجسٹریشن اور این او سی لازمی قرار امریکا نے فلائی بغداد ایئر لائن کو پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا امریکی و برطانوی وزرائے خارجہ کی ملاقات، ایران اور خلیج کی صورتحال پر گفتگو آبنائے ہرمز میں نیا عارضی بحری راستہ قائم کرنے کی تیاری مکمل کرلی: ایران پنجاب حکومت کی انتظامی سطح پر تبدیلیاں، 46 افسروں کے تقرر و تبادلے

ایران سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں، بات چیت جاری ہے: امریکی صدر

Web Desk

6 August 2026

لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی بات چیت جاری ہے اور وہ فوجی کارروائی کے بجائے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ وہ لوگوں کو مارنا نہیں چاہتے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اہم امور پر گفتگو ہو رہی ہے اور دیکھنا ہوگا کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس سے قبل آبنائے ہرمز کی مکمل اور فوری بحالی سے متعلق بات چیت ہوئی ہے، جو اس وقت سفارتی عمل کا پہلا مرحلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحری راہداری کا کھلنا پہلا اہم قدم ہے جس کے بعد دوسرے مرحلے میں ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور جوہری خطرات کے خاتمے پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے۔ امریکی صدر نے تنبیہ بھی کی کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ کے پاس دیگر اختیارات بھی موجود ہیں، تاہم ان کی ترجیح بات چیت کے ذریعے معاملے کا حل نکالنا ہے۔