LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فی صد اضافے کا اعلان امریکی فضا آلودہ کرنے پر کینیڈا کو بھاری ٹیرف ادا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ امریکی حملوں میں صرف ایرانی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا: وائٹ ہاؤس واٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس ہیکنگ میں اضافہ، این سی سی آئی اے کا الرٹ اسرائیل کا غزہ میں جنازے پر حملہ، کم از کم 14 فلسطینی شہید ایران کے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے، کئی اہلکار زخمی بحرین میں فضائی حملے کا الرٹ جاری، سائرن فعال کر دیے گئے ایران اور عرب ممالک کے درمیان بات چیت کیلئے روس متحرک ایران کے جنگ بندی قبول کرنے سے امریکا کو بحری ناکہ بندی مضبوط بنانے کا موقع ملا، محسن رضائی یمنی حکومت کی کویت، بحرین، قطر اور اردن پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت پاسداران انقلاب کی بحریہ کا بوشہر کے اوپر امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ آپریشن ’’الفارس الشہم 3‘‘: اماراتی طیارہ مزید 100 ٹن امدادی سامان لے کر غزہ پہنچ گیا مصنوعی ذہانت جدت کیساتھ گورننس کے نئے چیلنجز بھی لارہی ہے: چینی صدر وینزویلا: 24 گھنٹے میں مزید 101 افراد جاں بحق، زلزلوں سے ہلاکتیں 4930 ہوگئیں دنیا میں ہر دسواں شخص انتہائی غریب، 2.3 ارب افراد بھوکے سوتے ہیں: اقوام متحدہ

دنیا میں ہر دسواں شخص انتہائی غریب، 2.3 ارب افراد بھوکے سوتے ہیں: اقوام متحدہ

Web Desk

18 July 2026

نیویارک (عالمی میڈیا): اقوامِ متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں اب بھی ہر 10 میں سے ایک شخص انتہائی غربت کی زندگی گزار رہا ہے اور 2.3 ارب افراد روزانہ رات کو بھوکے سوتے ہیں۔ اقتصادی و سماجی کونسل (ECOSOC) کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) پر تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشی غیر یقینی، موسمیاتی تبدیلی اور قرضوں کے بحران جیسے باہم جڑے مسائل نے ترقی کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بجلی اور انٹرنیٹ کی رسائی میں عالمی سطح پر نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن ممالک کے درمیان پیش رفت میں واضح فرق موجود ہے۔ امینہ محمد نے عالمی برادری پر کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری میں اضافے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 2027 کا ایس ڈی جی سربراہی اجلاس محض ایک جائزہ نہیں بلکہ 2030 تک کے اہداف کے حصول کے لیے نئے سیاسی عزم اور عملی اقدامات کا مظہر ہونا چاہیے۔