LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا آسیان ممالک کے ساتھ تعاون اور شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ حج 2027: پرائیویٹ حج آپریشن کیلئے نیا ڈیجیٹل نظام نافذ کرنے کا فیصلہ پی ٹی آئی کی مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت کیلیے دائر درخواست مسترد برطانیہ میں 27 سال بعد نایاب گرہن، سورج 93 فیصد تک چھپ جائے گا ایران، عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے امریکا ایران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا ثالثی کردار اہم رہا:ساؤتھ ایشین وائسز مکہ معاہدہ سعودیہ، پاکستان اور ترکیے کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے: بلاول پاکستان اور کشمیر کے مضبوط رشتے کو کوئی طاقت کمزور نہیں کرسکتی: رانا ثناء اللہ محسن نقوی نے شہداء اور غازیوں کیلئے سول اعزازات کی منظوری دے دی اسلامی تعاون تنظیم اور بحرین کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم پاک امریکا اقتصادی تعاون، سویا بین شعبے میں شراکت داری مزید بڑھانے پر اتفاق آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا ملک گیر غیر معینہ مدت ہڑتال کا آغاز مریم نواز کا صفائی نظام میں سخت مانیٹرنگ کا حکم، مزید بہتر بنانے کا ہدف تنقید کے باوجود امریکی آئی سی ای کارروائیاں جاری: جولائی کے مہینے میں 43 ہزار سے زائد افراد گرفتار جہلم اور سرائے عالمگیر میں زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ

ایران کے جنگ بندی قبول کرنے سے امریکا کو بحری ناکہ بندی مضبوط بنانے کا موقع ملا، محسن رضائی

Web Desk

18 July 2026

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈر محسن رضائی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی قبول کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا نے مذاکرات کے دوران اپنی بحری ناکہ بندی کو مزید مضبوط کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اب عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ محسن رضائی نے واشنگٹن کی صریح خلاف ورزیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا نہ ہونا، آبنائے ہرمز میں متبادل بحری راستہ قائم کرنا، ایرانی سرزمین پر حملے اور ایران کے منجمد اثاثے بحال نہ کرنا اس کے واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے بعد امریکا نے “بیک وقت جنگ اور مذاکرات” کی پالیسی اپنائی تاکہ ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔ کمانڈر نے متنبہ کیا کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایران دفاعی کے بجائے جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے جنگ کا رخ بدل دے گا۔