LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا: معظم الیاس عام انتخابات 2026: آزاد کشمیر میں جدید رزلٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری آزاد کشمیر عام انتخابات 27 جولائی کو، 45 حلقوں میں پولنگ ہوگی ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے: سردار تنویر الیاس کا شرپسندوں کے حملے کے بعد ویڈیو پیغام صدرآئی پی پی عبدالعلیم خان کی سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر حملے کی سخت مذمت امریکہ نے 85 پاکستانی طلبہ و محققین کو فل برائٹ اسکالرشپس سے نواز دیا کشمیر کے مسائل حل کیلئے’ ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن‘ کمیشن قائم کیا جائے: بلاول بھٹو استنبول سے اسلام آباد آنیوالی پرواز میں خرابی، باکو میں ایمرجنسی لینڈنگ چین کے فارماسیوٹیکل تعاون سے سستی ادویات، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، وزیراعظم سونے کی قیمت میں بڑی کمی سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ جاں بحق، متعدد زخمی واٹس ایپ ہیکنگ سے بچاؤ، این سی سی آئی اے کا ایکشن پلان، ہیلپ لائن بھی قائم ہوگی بلھے شاہ ایکسپریس کی بحالی، لاہور ریلوے سٹیشن اپ گریڈ، نئی ٹرینوں کا اعلان اینڈی برنہم برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب، آئندہ ہفتے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم

اینڈی برنہم برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب، آئندہ ہفتے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے

Web Desk

17 July 2026

برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت رکنِ پارلیمنٹ اینڈی برنہم پارٹی کے نئے رہنما منتخب ہو گئے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اینڈی برنہم موجودہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی جگہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم ہوں گے اور اگلے ہفتے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، جبکہ سر کیئر اسٹارمر پیر کے روز بادشاہ چارلس کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔ قیادت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں اینڈی برنہم نے سر کیئر اسٹارمر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئی کابینہ میں پارٹی کے تمام دھڑوں کو نمائندگی دی جائے گی اور محض مختلف رائے رکھنے پر کسی رکن کو سزا نہیں ملے گی، کیونکہ اگر پارٹی اندرونی اختلافات میں الجھی رہی تو دائیں بازو کی جماعتوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔