LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مالی سال 26ء میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا؛ اسٹیٹ بینک نے نئے اعداد و شمار جاری اپنی چھت، محفوظ چھت پروگرام: 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دینے کا اعلان عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے ویتنامی لڑکی نے ملک بھر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کی نئی لہر پیدا کر دی افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات سمگلنگ، تاجک ایجنسی کی رپورٹ جاری صدر ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے ڈیٹا کی سب سے بڑی چوری کا الزام ایران اب بھی چاہتا ہے ڈیل ہو جائے: وائٹ ہاؤس امریکی نائب صدر نے اسرائیل پر بڑا الزام لگا دیا یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان اسکیم کا سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک قرار امریکی محکمہ خارجہ کی دوہری شہریت رکھنے والے شہریوں کو سفری قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور امریکی حملوں کا جواب، ایران کے بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملے امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کے کویت میں ڈرون حملے چینی حکومت چاہتی ہے کہ امریکی صدر الیکشن ہار جائیں، ٹرمپ کا الزام

جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے

Web Desk

17 July 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات میں شریک جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر اندرونی معلومات سے مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ الزامات سراسر جھوٹے ہیں اور یہ تصور ہی مضحکہ خیز ہے کہ صدر ٹرمپ کی ٹیم کے یہ قابلِ اعتماد ارکان اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے تھے۔ یہ بیان “ڈراپ سائٹ نیوز” کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے دوران جے ڈی وینس کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں کشنر اور وٹکوف کے مالی مفادات کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ نائب صدر نے واضح کیا کہ انہیں ایسا کوئی پیغام کبھی موصول نہیں ہوا اور ان دونوں نے خطے میں امن کے لیے سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی امریکی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔