LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آصفہ بھٹو سے انڈونیشین سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق عمرہ نظام میں بڑی اصلاحات، نئے رولز نافذ کر دیے گئے کانگو میں ایبولا کیسز 2 ہزار سے تجاوز، 754 افراد ہلاک آئی سی سی نے ون ڈے اور ٹی 20 ورلڈ کپ کے نئے فارمیٹس کی منظوری دے دی حکومت نے ٹی ٹی ایس فیکلٹی کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافے کی منظوری دیدی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کل 2 روزہ دورے پر چین روانہ ہوں گے عمان کے ساحل کے قریب حملے کا شکار جہاز سے لاپتا بھارتی انجینئر کی لاش مل گئی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر انتخابی مہم کا شیڈول جاری کر دیا آزاد کشمیر بحران؛ بلاول بھٹو کا جے کے جے اے اے سی کو خط، دھرنے معطل کرنے کی اپیل گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کا جھنجھٹ ختم؛ امریکی ایوانِ نمائندگان میں سال بھر ’ڈے لائٹ سیونگ ٹائم‘ مستقل کرنے کا بل منظور رواں سال کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کا سال ہوگا: وزیراعظم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کیخلاف انکوائری کا حکم معطل کر دیا آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا شہدا کی توہین ناقابلِ قبول، مولانا فضل الرحمان قوم سے معافی مانگیں: سپیکر پنجاب اسمبلی شہدأ کی توہین ناقابل برداشت ہے، فوجی جوانوں اور اہلخانہ سے معذرت کرتا ہوں، طاہر اشرفی

رواں سال کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کا سال ہوگا: وزیراعظم

Web Desk

15 July 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر (FBR) اصلاحات پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس نظام میں جاری بہتری اور معاشی استحکام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور رواں سال معاشی ترقی و کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہوگا۔ انہوں نے کاروباری برادری کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے ایف بی آر کے سینئر افسران کو ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی کا دورہ کر کے تاجروں کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ٹیکس قوانین پر سختی سے عمل کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ شوگر، سیمنٹ، ٹوبیکو، ٹائلز اور فرٹیلائزرز کی صنعتوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کامیابی سے نصب ہو چکا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور مشروبات کے شعبوں میں یہ کام جاری ہے۔ مانیٹرنگ سسٹم کی بدولت گزشتہ ایک سال کے دوران شوگر انڈسٹری سے 42 بلین روپے، سیمنٹ سے 38 بلین روپے اور بیوریجز انڈسٹری سے 15 بلین روپے کا اضافی ٹیکس حاصل ہوا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔