LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
معاشی اصلاحات اور جدید مالیاتی منصوبے؛ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات بانی پی ٹی آئی کی قید کے 3 سال؛ 5 اگست کو ملک گیر احتجاجی ریلیاں نکالنے کا فیصلہ آصفہ بھٹو سے انڈونیشین سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق عمرہ نظام میں بڑی اصلاحات، نئے رولز نافذ کر دیے گئے کانگو میں ایبولا کیسز 2 ہزار سے تجاوز، 754 افراد ہلاک آئی سی سی نے ون ڈے اور ٹی 20 ورلڈ کپ کے نئے فارمیٹس کی منظوری دے دی حکومت نے ٹی ٹی ایس فیکلٹی کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافے کی منظوری دیدی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کل 2 روزہ دورے پر چین روانہ ہوں گے عمان کے ساحل کے قریب حملے کا شکار جہاز سے لاپتا بھارتی انجینئر کی لاش مل گئی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر انتخابی مہم کا شیڈول جاری کر دیا آزاد کشمیر بحران؛ بلاول بھٹو کا جے کے جے اے اے سی کو خط، دھرنے معطل کرنے کی اپیل گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کا جھنجھٹ ختم؛ امریکی ایوانِ نمائندگان میں سال بھر ’ڈے لائٹ سیونگ ٹائم‘ مستقل کرنے کا بل منظور رواں سال کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کا سال ہوگا: وزیراعظم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کیخلاف انکوائری کا حکم معطل کر دیا آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا

طالبان رجیم کا بدترین اقتدار، خواتین کے بعد اب نوجوانوں کا بھی مستقبل تاریک

Web Desk

15 July 2026

افغانستان میں خواتین پر تعلیم اور روزگار کے دروازے بند کرنے کے بعد اب طالبان حکومت نے نوجوانوں کو بھی ان کے بنیادی حقِ تعلیم سے محروم کرنا شروع کر دیا ہے۔ عالمی جریدے ’دی گارڈین‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے برسرِاقتدار آنے کے بعد ملک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں شدید ترین کمی واقع ہوئی ہے، جس نے افغان نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس تشویشناک صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان رجیم نے لاکھوں افغان شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر کے انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں خواتین کی تعلیم پر بات کی جاتی ہے، وہیں افغان طالبان کے زیرِ تسلط پڑھنے والے نوجوان طلبہ کی اس بدترین اور مظلومانہ حالت پر کسی بھی بڑے عالمی فورم پر مؤثر طریقے سے آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔  مقامی افغان طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں میں طالبان کے سخت قوانین نافذ ہیں، جہاں داڑھی نہ رکھنے یا لباس کے ضوابط کی معمولی خلاف ورزی پر بھی طلبہ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تعلیمی شعبے کے انتہائی تجربہ کار اور قابل پروفیسرز کے ملک چھوڑ جانے سے افغانستان کی اعلیٰ جامعات کا تعلیمی معیار تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔

ماہرینِ تعلیم اور تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں کو مکمل طور پر مفلوج کر کے نئی نسل کو فکری اور تعلیمی طور پر تباہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی صحافی دھرم جوت نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روزگار اور تعلیم پر عائد کڑی پابندیاں افغان عوام کے بنیادی حقوق کا بدترین استحصال ہیں اور افغانستان پر مسلط موجودہ طالبان رجیم عالمی سطح پر انسانی حقوق پامال کرنے کی بدترین مثال بن چکی ہے