LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی مریم نواز سے پرتگال کے سفیر کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق آئینی عدالت کا پیرسوہاہ مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار قومی ٹیسٹ اسکواڈ دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے روانہ؛ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 2 ہزار سے زائد پوائنٹس گر گیا یومِ شہدائے کشمیر،13 جولائی حق، قربانی اور استقامت کا عظیم دن ہے: محسن نقوی امریکا کے سرک، بندر عباس اور جاسک پر حملے، پہلی بار سمندری ڈرون استعمال وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ پاسداران انقلاب نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل داغ دیئے وزیراعلیٰ بلوچستان کا ہنہ اڑک کے گاؤں ببری کا دورہ، آپریشن شعبان کا جائزہ لیا مریم نواز کا حقِ خودارادیت کیلئے جان دینے والے کشمیریوں کو خراجِ تحسین امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایرانی وزارت خارجہ عراق کا خطے میں بڑھتی کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور

امریکا کے سرک، بندر عباس اور جاسک پر حملے، پہلی بار سمندری ڈرون استعمال

Web Desk

13 July 2026

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب جنوبی ایران میں وسیع پیمانے پر نئی فوجی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے، جس کے دوران آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف پر حملے کیے گئے۔ سینٹکام کے مطابق، ان حملوں میں پہلی بار یکطرفہ کارروائی کرنے والے سمندری ڈرونز سمیت لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں اور فضائی ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جن کا نشانہ ایران کا فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات اور میزائل و ڈرون مراکز تھے۔ دوسری جانب، ایرانی حکام اور مقامی خبر رساں ایجنسیوں نے خوزستان صوبے کے متعدد شہروں بشمول اہواز، بہبہان، دزفول، امیدیہ، ماہشہر، آبادان اور شادگان میں امریکی میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے۔ خوزستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق، ماہشہر میں واقع ایک زرعی واٹر پمپنگ اسٹیشن پر میزائل حملے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے۔ امریکی فوجی کمان نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور امریکی افواج عالمی تجارت کی اس اہم گزرگاہ پر بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔