LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا ایران نے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی، امریکا خلاف ورزی کر رہا ہے: عراقچی پولیس نے طالبہ سے گن پوائنٹ پر زیادتی کرنے والے ملزم کے والد کو حراست میں لے لیا امریکی صدر ٹرمپ سینیٹ پر برہم، بل پر دستخط سے انکار کر دیا ایران نے اقوام متحدہ سے امریکا کے احتساب کا مطالبہ کر دیا امریکی صدر اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال ورلڈ بینک کے صدر کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹ بال ’ٹرائیونڈا‘ کا تحفہ، سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ کی اجے بنگا سے ملاقات ظہران ممدانی امریکی یہودیوں میں نیتن یاہو سے زیادہ مقبول قرار امریکا کا ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے بند کرنے کے عوامی اعلان کا مطالبہ، ساتھ دھمکی بھی دیدی ایرانی وزارت صحت کی بھی فضائی حملوں میں 17 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق اسرائیل کا جنوبی لبنان کے قصبے پر ڈرون حملہ، ایک شخص جاں بحق اسرائیل کی کارروائیاں، 10 دن میں 67 فلسطینی بے گھر، 12 عمارتیں مسمار ہوگئیں: اقوام متحدہ ایرانی وزیر خارجہ آج عمان کا دورہ، خطے کی بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کریں گے پاکستان کا حالیہ کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے پر زور امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست نہیں کی: ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

ظہران ممدانی امریکی یہودیوں میں نیتن یاہو سے زیادہ مقبول قرار

Web Desk

11 July 2026

وائٹ ہاؤس کے سابق اعلیٰ عہدیدار اہم ایمانوئل نے ایک چونکا دینے والے بیان میں ظہران ممدانی کو امریکی یہودیوں میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے زیادہ مقبول قرار دے دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اہم ایمانوئل نے نیتن یاہو کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس انداز سے اسرائیل کی قومی سلامتی کو چلایا ہے، اس نے ملک کو ایک بند گلی میں پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو کی موجودہ پالیسیوں نے امریکہ کے ساتھ اسرائیل کے روایتی اور سٹریٹجک اتحاد کو ایک انتہائی نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیل نے امریکہ اور یورپ دونوں کی ہمدردیاں کھو دی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آج اسرائیل عالمی سطح پر ایک تنہا ریاست بن چکا ہے اور نیتن یاہو کی حکومت نے ایک ایسا نقصان دہ سودا کیا ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل نے اپنی بڑی معاشی مارکیٹیں بھی گنوا دی ہیں۔